خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 86
خطبات مسرور جلد سوم 86 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء تو آج بھی آپ کی ذات پاک پر گھٹیا الزام لگائے جاتے ہیں۔ہنسی ٹھٹھے اور استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اور ایسے لوگ جو آج بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ان کو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ آج بھی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھتا ہے۔بعض لوگ جو اپنے میڈیا کے ذریعے سے تاریخ کو یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، حق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کو ان کفار مکہ کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں جن میں سے چند ایک میں نے پیش کیں، مثالیں بے شمار ہیں۔ہمارے آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا سچ اور سچ کا نور نہ کبھی پہلے ماند پڑا تھایا چھپ سکا تھا نہ آج تم لوگوں کے ان حربوں سے یہ ماند پڑے گا یا چھپے گا۔یہ نورانشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا پر غالب آتا ہے اور اس سچائی کے نور نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر ڈالنا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آج کل بھی بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کے بارے میں بعض کرتا ہیں لکھی ہیں اور وقتا فوقتا آتی رہتی ہیں۔اسلام کے بارے میں ، اسلام کی تعلیم کے بارے میں یا آپ کی ذات کے بارے میں بعض مضامین انٹرنیٹ یا اخبارات میں بھی آتے ہیں، کتب بھی لکھی گئی ہیں۔ایک خاتون مسلمان بن کے ان سائیڈ سٹوری (Inside Story) بتانے والی بھی آجکل کینیڈا میں ہیں۔جب احمدی اس کو چیلنج دیتے ہیں کہ آؤ بات کرو تو بات نہیں کرتی اور دوسروں سے ویسے اپنے طور پر جو مرضی گند پھیلا رہی ہے۔تو بہر حال آج کل پھر یہ مہم ہے۔ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ آپ کی سیرت کے ہر پہلو کو دیکھا جائے اور بیان کیا جائے ،اظہار کیا جائے۔یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی خلاف بات سنی ، جلوس نکالا ، ایک دفعہ جلسہ کیا ، ایک دفعہ غصے کا اظہار کیا اور بیٹھ گئے۔بلکہ مستقل ایسے الزامات جو آپ کی پاک ذات پر لگائے جاتے ہیں ان کا رڈ کرنے کے لئے ، آپ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کئے جائیں۔ان اعتراضات کو سامنے رکھ کر آپ کی سیرت کے روشن پہلو دکھائے جاسکتے ہیں۔کوئی بھی اعتراض ایسا نہیں جس کا جواب موجود نہ ہو۔جن جن ملکوں میں ایسا بیہودہ لٹریچر شائع ہوا ہے یا اخباروں میں ہے یا ویسے آتے ہیں وہاں کی جماعت کا کام ہے کہ اس کو دیکھیں اور براہ راست اگر کسی بات کے جواب