خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 704 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 704

خطبات مسرور جلد سوم 704 خطبہ جمعہ 2 / دسمبر 2005ء خواہ تمہیں برف کی سلوں پر گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے جانا اور میرا سلام کہنا۔پس آپ کو اپنے احمدی ہونے پر فخر اور ناز ہونا چاہئے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر پیشگوئی اور آپ کے ہر حکم پر ایمان لانے والے ہیں۔لیکن یہ ایمان کامل تبھی ہو گا جب آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی تعلیم پر عمل بھی کر رہے ہوں گے ، ان نصائح پر عمل کر رہے ہوں گے جو آپ نے قرآن کریم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح طور پر سمجھ کر ہمیں دیں۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ قرآن وسنت کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔کیونکہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم اور عدل کہہ کر یہ بتا دیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کو قرآن وسنت کا سب سے زیادہ فہم و ادراک ہے۔اس لئے کسی بھی مسئلے کی یہ شخص جو تشریح کرے گا ، وضاحت کرے گا، وہی صحیح اور درست ہوگی۔جس تعلیم کو یہ تم میں رائج کرے گا، یہی خدا کے ساتھ ملانے والی تعلیم ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ ہمیں نصیحت فرما رہا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب آپ کا غلام صادق ہی سب سے بڑا صادق ہے۔پس اب جب آپ نے اس صادق کے ساتھ تعلق جوڑا ہے تو اس تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔اور آپ اپنی جماعت جیسی بنانا چاہتے تھے ویسی جماعت بننے کی کوشش کریں۔دنیا کو بتادیں کہ تم ہمیں مسلمان سمجھو یا غیر مسلم اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہم نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس صادق کو پالیا ہے اور اب اس کی جماعت میں شامل ہو گئے ہیں۔اور اب ہم ہی ہیں جن سے اسلام کی آئندہ تاریخ بنی ہے (انشاء اللہ ) اس لئے ہم اب تمہیں بھی کہتے ہیں کہ آؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عاشق صادق کی جماعت میں داخل ہو کر اپنی دنیا و آخرت سنوار لو۔لیکن جب یہ دعوی کر کے آپ دنیا کو اپنی طرف بلائیں گے تو اپنے آپ پر بھی نظر ڈالنی ہوگی کہ ہم نے اپنے اندر کیا انقلاب پیدا کیا ہے۔اس زمانے کے مسیح و مہدی اور سب سے بڑے صادق کو مان کر ہمارے اپنے نمونے کیا ہیں۔ہمارے اپنے تقویٰ کے معیار کیا ہیں۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ