خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 705 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 705

خطبات مسرور جلد سوم 705 خطبہ جمعہ 2 / دسمبر 2005ء الصلوۃ والسلام نے کیا تعلیم دی اور ہم سے آپ نے کیا کیا توقعات وابستہ کیں اور ہم اب کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پڑھ کے مختصر البعض باتوں کا ذکر کر دیتا ہوں کہ آپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں اور کیا تعلیم آپ ہمیں دیتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں : ” عزیز و! خدائے تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔نماز پڑھو، نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے۔اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسا نہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے۔بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھوڈالو۔تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑ گڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیا جائے“۔پھر فرمایا: وو ” سچائی اختیار کرو۔سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔کیا انسان اس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے“۔پھر آپ فرماتے ہیں: باہم بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ایک توحید و محبت و اطاعت باری عَزَّ اسْمه۔دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔(ازاله اوهام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 549-550) تو یہ ہے پاک تعلیم اس زمانے کے سب سے بڑے صادق کی جس کے ساتھ منسوب ہو کر اور جس کی جماعت میں شامل ہو کر انسان خود بھی صادق بن سکتا ہے۔آپ نے پہلے ہمیں انتہائی بنیادی بات کی طرف توجہ دلائی کہ اگر یہ دعوی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی مسلمان ہوں تو اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے جو قرآن کریم میں سینکڑوں احکام ہیں۔ان میں سے کسی ایک کو بھی بے قدری کی نظر سے نہیں دیکھنا۔کسی ایک حکم کے بارے میں بھی یہ نہیں