خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 672 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 672

خطبات مسرور جلد سوم 672 اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈا کہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 347) تو یہ ماپ تول پورا نہ کرنا یاڈنڈی مارنا، دیتے ہوئے مال تھوڑا تول کر دینا اور لیتے ہوئے زیادہ لینے کی کوشش کر نا یہ تمام باتیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے برابر ہیں۔اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے لے کہ کوئی بات نہیں تھوڑ اسا کاروباری دھوکہ ہے کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں۔بڑے واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ خبردار رہو، سن لو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔پھر بعض لوگ دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اس کو تو پتہ نہیں چل رہا کہ فلاں چیز کی کیا قدر ہے، اس کو دھوکے سے بیوقوف بنالو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کچھ اپنی جیب میں ڈال لو، کچھ اصل مالک کو دے دو۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بات یہ عمل بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو فساد پیدا کرنے والے عمل ہیں۔اس قسم کے لوگ جو اس طرح کا مال کھانے والے ہوتے ہیں یہ لوگ دوسروں کے مال کھا کر آپس میں لڑائی جھگڑوں اور فساد کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔دوسرے فریق کو جب پتہ چلتا ہے کہ اس طرح میرا مال کھایا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس طرح آپس کے تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں۔تعلقات خراب ہوتے ہیں ، مقدمے بازیاں ہوتی ہیں۔دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی ہیں۔لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔اور اگر دوسرا فریق صبر کرنے والا ہو، حوصلہ دکھانے والا ہو تو پھر تو بچت ہو جاتی ہے ورنہ جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ لڑائی جھگڑے، فساد، فتنہ یہی صورتحال سامنے آتی ہے۔اور روزمرہ ہم ان باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔پھر لوگوں کا مال کھانے والا، کم تول کرنے والا اس حرام مال کی وجہ سے جو وہ کھا رہا ہوتا ہے طبعا فسادی اور فتنہ پرداز بن جاتا ہے۔دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔نیکی اور