خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد سوم 673 خطبہ جمعہ 18 نومبر 2005ء امن کی بات کی اس سے توقع نہیں کی جاسکتی۔اس کی ہر بات اور ہر کام میں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔اور یہ کاروباری بددیانتی یا کسی بھی وجہ سے دوسرے کا مال کھانا یہ ایسے فعل ہیں جن کی وجہ سے جیسا کہ اس آیت میں آیا کہ فساد نہ کرو، پہلی قوموں پہ تباہی بھی آئی ہے، یہ بھی ایک وجہ تباہیوں کی بنتی رہی ہے۔تو یہ واقعات جو قرآن کریم میں ہمیں بتائے گئے ہیں صرف ان پرانے لوگوں کے قصے کے طور پر نہیں تھے بلکہ یہ سبق ہیں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی کہ دیکھو اللہ تعالیٰ سے کسی کی رشتہ داری نہیں ہے۔اگر اس تعلیم سے دور ہٹو گے تو اس کے عذاب کے مور د بنو گے۔ور نہ پہلی قو میں بھی یہ سوال کر سکتی ہیں کہ ہماری ان غلطیوں کی وجہ سے تو ہمیں عذاب نے پکڑا لیکن بعد میں آنے والے بھی یہی گناہ کرتے رہے اور آزادانہ پھرتے رہے اور عیش کرتے رہے۔یہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے لیکن جن واقعات کی خدا تعالیٰ نے خود اطلاع دے دی، یہ اطلاع اس لئے ہے کہ پہلی قوموں میں یہ یہ برائیاں تھیں جن کی وجہ سے ان کو یہ سزائیں ملیں ہم اگر سزا سے بچنا چاہتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو اور ان فساد کی باتوں سے رکو۔اس زمانے میں دنیا کے لالچ کی وجہ سے عموماً انفرادی طور پر بھی اور قوموں کی سیاست کی وجہ سے قومی طور پر بھی ایک دوسرے کو تجارت میں ، لین دین میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔جو معاہدے ہوتے ہیں ان پر من و عن عمل نہیں ہوتا۔سوسو تاویلیں اور حجتیں نکالی جاتی ہیں۔اگر ان مغربی قوموں کی اپنی مرضی کے مطابق غریب ممالک عمل نہ کریں تو یہ اپنے معاہدوں کو اور سودوں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ اس معاہدے سے اتنا استفادہ نہ کر سکیں جس کی وجہ سے یہ معاہدے ہورہے ہیں۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ان غریب ممالک کو پہلے تجارت اور ہمدردی کے دھوکے میں رکھ کر لوٹا جاتا ہے اور پھر زیرنگیں کر لیا جاتا ہے۔جو اختلاف کرے اس پر فوج کشی کر دی جاتی ہے۔طاقت استعمال کر کے اس قوم کو اپنے تسلط میں لے لیا جاتا ہے۔تو بہر حال ان فساد پیدا کرنے والوں کے ، دوسروں کے حقوق چھینے والوں کے یہ دوہرے معیار ہوتے ہیں کہ اپنی پسند کی قوموں سے، اپنی ہم مذہب قوموں سے لین دین