خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 671 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 671

خطبات مسرور جلد سوم 671 (45) خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء امانت اور با ہمی لین دین کے معاملات میں اسلامی تعلیم ہر احمدی کو کاروباری معاملات میں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہونا چاہئے خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی :۔پھر فرمایا:۔أوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ ® وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (الشعراء:182-184) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی حضرت شعیب کی قوم کا ذکر کیا ہے ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ ماپ تول پورا دیا کرو۔کم تولنے کے لئے ڈنڈی مارنے کے طریقے اختیار نہ کرو کیونکہ تمہاری یہ بد نیتی ملک میں فساد اور بدامنی پھیلانے کا باعث بنے گی۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ بھی اسی مضمون کی ہیں۔ان کا ترجمہ ہے کہ: پورا پورا ماپ تو لو اور ان میں سے نہ بنو جو کم کر کے دیتے ہیں۔اور سیدھی ڈنڈی سے تو لا کرو۔اور لوگوں کے مال ان کو کم کر کے نہ دیا کرو۔اور زمین میں فسادی بن کر بدامنی نہ پھیلاتے پھرو۔