خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 634

خطبات مسرور جلد سوم 634 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء پھر فرمایا کہ سورۃ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کو اختیار کرنا یا عمل کرنا موجب برکت ہے اور اس کو چھوڑنے میں حسرت۔اور کوئی جھٹلانے والا اسے جھٹلا نہیں سکتا۔یا کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔(مسلم، کتاب فضائل القرآن باب فضل قراءت القرآن وسورة البقرة) تو یہی ہے کہ سورۃ بقرہ اور آل عمران میں جو مضمون ہیں ان کو سمجھو، پڑھو، تلاوت کرو، ان پر عمل کرو تو بہت ساری باتیں اس سے حاصل ہو جاتی ہیں۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ باقی قرآن کریم کی تلاوت ضروری نہیں ہے۔اور یہ دو سورتیں ہی ہیں جن کی ہر وقت تلاوت کی جائے۔بلکہ ان کے مضمون کے لحاظ سے اور ان کو سمجھ کر عمل کرنے کے لحاظ سے بات کی گئی ہے۔پھر ان کو یاد کر کے نماز میں، خاص طور پر اپنے نوافل میں پڑھنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی کی رات کو آنکھ کھل گئی تو انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نفل پڑھ رہے ہیں۔تو وہ بھی بڑے شوق سے ساتھ شامل ہو گئے۔کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد تھک کے میرا برا حال ہو گیا۔(مسلم ، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو پوری سورۃ بقرہ پڑھی پھر شاید دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی۔دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھنے کا انداز بھی کیسا ہوتا ہوگا۔اس بیچارے نے تو تھکنا ہی تھا۔روایت میں ملتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور سنتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص کیفیت ہو جایا کرتی تھی۔پھر سورۃ بقرہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قرآن کریم کی چوٹی کا حصہ ہے۔(سنن ترمذی ، ابواب فضائل القرآن ، باب ماجاء في فضل سورة البقرة) سورۃ بقرہ میں متعدد مضامین ہیں۔حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیاء کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔عبادتوں کے مسائل کا ذکر بھی ہے۔نماز وغیرہ کس طرح پڑھنی ہے۔روزے کس طرح رکھنے ہیں۔اس طرح دوسرے احکامات ہیں۔حضرت ابراہیم اور اسماعیل کی دعاؤں کا بھی ذکر ہے اس طرح اور بھی مختلف دعا ئیں سکھائی گئی ہیں۔پھر آل عمران