خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 633

خطبات مسرور جلد سوم 633 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : پرستش کی جڑ تلاوت کلام الہی ہے۔کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور بچے محبت کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورش عشق پیدا کرتا ہے۔(سرمه چشم آریه۔روحانی خزائن جلد 2، صفحہ 283)۔ایک گرمی پیدا ہوتی ہے اور عشق میں توجہ پیدا ہوتی ہے۔پس اگر خدا تعالیٰ سے محبت کا دعوئی ہے۔تو اس محبت میں مزید اضافے کے لئے اور خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ہمیں قرآن کریم کو پڑھنا چاہئے اور سمجھ کر پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے اور یہ بہت ضروری ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، کسی صاحب نے سوال کیا تھا اس کے جواب میں فرمایا کہ : " قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہئے۔( بڑا غور کرو اس پر ) حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قَارِ يَلْعَنُهُ الْقُرْانُ یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے۔اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر وغور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے“۔(ملفوظات جلد 5صفحہ157جدید ایڈیشن) تو یہ ہے قرآن کریم پڑھنے کا طریق۔حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے آنحضرت عل اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کریم پڑھا کرو یقیناً وہ قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گا۔فرمایا زَهْرَاوَيْن دو خوشنما اور حسین پھولوں یعنی سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران کی تلاوت کیا کرو۔یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن دو بدلیوں کی مانند ہوں گی یا دو منتہائے مقصود۔ایسی چیز میں جن کو حاصل کرنا ہو۔یا صفت بستہ پرندوں کی دوٹولیوں کی شکل میں ہوں گی۔اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے دفاع کر رہی ہوں گی ، ان کے حق میں بیان کر رہی ہوں گی۔