خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 635 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 635

خطبات مسرور جلد سوم 635 خطبه جمعه 21 /اکتوبر 2005ء میں بھی مختلف مضامین عیسائیت کے بارے میں بھی اور حضرت عیسی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں وغیرہ کے جنگ بدر کے بارے میں اور دوسری جنگوں کے بارے میں۔تو ان میں یہ مختلف قسم کے مضامین کا خزانہ ہے۔پھر ایک روایت میں قرآن کریم کے یاد کرنے اور نماز میں پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں اس طرح آتا ہے۔حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”نماز میں قرآن کریم کا پڑھنا افضل ہے، اُس پڑھنے سے جونماز کے علاوہ پڑھا گیا ہو۔جو نماز میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے وہ اس سے زیادہ افضل ہے جو عام حالات میں پڑھا جائے۔اور نماز کے علاوہ قرآن کریم پڑھنا خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور بڑائی بیان کرنے سے زیادہ افضل ہے۔اور جو دوسرے ذکر ہیں ان کی نسبت قرآن کریم کا پڑھنا زیادہ افضل ہے۔” اور خدا تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرنا صدقہ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔یہ جو بہت زیادہ ذکر کرنے والے اور سوچ سمجھ کر کرنے والے ہیں بعض دفعہ صدقے سے بھی زیادہ افضل ہیں۔اور فرمایا صدقہ کرنا روزے سے زیادہ افضل ہے۔اور روزہ آگ سے بچنے کے لئے ڈھال ہے۔تو کتنی فضیلت ہے قرآن کریم کو یاد کرنا اور پھر نماز میں پڑھنا۔کیونکہ نماز میں ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔اس لئے تلاوت کرتے وقت ایک ایک لفظ پر مومن زیادہ غور کر رہا ہوتا ہے۔اور جہاں جہاں انذار ہوں ، جہاں جہاں بشارتیں ہوں، ان آیات پر استغفار اور حمد کی توفیق مل رہی ہوتی ہے۔ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے۔یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں۔نماز کے بارہ میں یہ آیا ہے کہ نماز یہ سوچ کر پڑھو کہ میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں، وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔اسی لئے فرمایا کہ نماز میں قرآن کریم پڑھنا سب سے افضل ہے۔دوسرے یہ فائدہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم یاد کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوگی۔یہ ایک علیحدہ برکت ہے۔لیکن بہر حال فرمایا کہ ویسے تلاوت کرنا بھی بہت ساری نیکیوں سے زیادہ افضل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :" قرآن مجید ایک ایسی پاک (مشكوة المصابيح كتاب فضائل القرآن الفصل الثالث)