خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 599
خطبات مسرور جلد سوم 599 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء ہے۔بعض دفعہ ایسے ذرائع اُسے مہیا کرتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اس لئے کہ مومن اللہ کی خاطر بہت سے کام کر رہا ہوتا ہے۔اللہ کی عبادت میں زیادہ وقت گزار رہا ہوتا ہے۔قرآن کریم کی تلاوت میں رمضان میں زیادہ وقت گزر رہا ہوتا ہے۔دوسری عبادتوں میں زیادہ وقت گزر رہا ہوتا ہے۔تو دنیا کے دھندوں کو کم کر کے ان نیکیوں کے لئے ایک مومن وقت نکال رہا ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ بھی بے انتہا نوازتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق دنیاوی ضروریات بھی اس کی پوری کرتا ہے۔لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر خالص ہو کر عمل کرنے سے ہوگا۔اور یہ اسی وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی رحمت ملے گی اور بخشش کئی گنا بڑھ جائے گی۔جب ہم تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں گے اور ان نیکیوں کو بجالا رہے ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں روزوں کی فضیلت کے بارہ میں اور اس کی برکات حاصل کرنے کے طریق کے بارے میں یوں بیان فرمایا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔اور روزے ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہوتو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر اس کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں۔آگے فرمایا: (اس میں سے کچھ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ) اس ذات کی قسم! کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب ہے۔روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا۔(بخاری کتاب الصوم - باب هل يقول إني صائم اذا شتم) تو اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ روزے کی میں جزا دوں گا تو ویسے بھی ہر عمل کی جزا تو اللہ تعالی ہی دیتا ہے۔لیکن دوسرے سارے عمل ایسے ہیں جن میں یہ نیکیاں ہیں ، جائز باتیں ہیں