خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 600
خطبات مسرور جلد سوم 600 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا برائیاں ہیں جن سے رکنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔لیکن رمضان میں روزہ رکھ کر ایک مومن نا جائز باتوں سے تو رک ہی رہا ہوتا ہے ، بعض جائز باتیں بھی خدا کی خاطر چھوڑ رہا ہوتا ہے۔اور پھر عام حالات کی نسبت پہلے سے بڑھ کر نیکیاں کر رہا ہوتا ہے۔نیکیاں کرنے کی توفیق پا رہا ہوتا ہے۔پھر اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بُرائی کا جواب بھی اللہ کی خاطر نیکی سے دے رہا ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر بھی بے حساب رکھا ہے یہ سوچ کر کہ تم میری خاطر کچھ عمل کر رہے ہو یا کرو گے تو میں اس کا اجر بے حساب دوں گا۔ہر بات کا ، ہر کام کا، ایک فرض کے ادا کرنے کا 70 گنا ثواب ملتا ہے۔تو مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے اس فعل سے کہ اس نے اللہ کی خاطر روزہ رکھا اور تمام نیکیاں بجالانے اور برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ کی بلکہ بعض جائز باتیں بھی جیسا کہ میں نے کہا جو عام حالات میں انسان کر سکتا ہے ان سے بھی اس لئے رکا کہ اللہ کا حکم ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ اس کی جزا بن گیا۔پس یہ عبادت بھی خالص ہو کر اس کے لئے کرنا اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنا ہی اس کی رحمتوں کا وارث بنائے گا اور بے حساب رحمتوں کا وارث بنائے گا اور خالص ہو کر ہم اس کی خاطر یہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ کو ایسے مومن کی ہر حالت اور ہر حرکت پر پیار آتا ہے جو اس کی خاطر یہ فعل کر رہا ہوتا ہے۔یہاں تک فرمایا کہ روزہ کی وجہ سے بعض دفعہ جو منہ سے بو آتی ہے اللہ تعالیٰ کو وہ بھی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ روزہ ڈھال ہے اور آگ سے بچانے والا مضبوط قلعہ ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 402 مطبوعه بيروت) پس یہ ڈھال تو اللہ تعالیٰ نے مہیا فرما دی لیکن اس کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی آنا چاہئے۔اس کے بھی کچھ لوازمات ہیں جنہیں پورا کرنا چاہئے۔تبھی اس ڈھال کی حفاظت میں تقوی اختیار کرنے کی توفیق ملے گی۔یہ ڈھال اس وقت تک کارآمد رہے گی جب روزہ کے دوران ہم سب برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔جھوٹ نہیں بولیں گے، غیبت نہیں کریں گے، اور ایک دوسرے کی حق تلفی نہیں کریں گے، اپنے جسم کے ہر عضو کو اس طرح سنبھال کر