خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد سوم 579 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء چندہ میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبد العزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے که با وجود قلت معاش کے ایک دن سور و پیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سور و پیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہوگا۔مگر یہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔( ضمیمه انجام آتهم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحه 314٬313 حاشیه) اب دیکھیں ! مالی قربانی کرنے کے علاوہ بھی جو وہ ریگولر (Regular) کیا کرتے تھے انہوں نے قربانیوں کے معیار قائم کئے۔اُس زمانے کا جو سو روپیہ ہے وہ آجکل شاید لاکھ روپے بلکہ میں نے حساب کیا ہے اگر گندم کی قیمت کا حساب لیں تو لاکھ روپے سے بھی زیادہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب بنتا ہے۔پس آج کے کمانے والے اس زمانے کی کمائی کو دیکھیں۔ان میں سے بہت سارے بزرگ ہیں جن کی اولادیں یہاں بھی ہیں۔یورپ میں ، دوسرے ملکوں میں اچھا کمانے والی ہیں۔بڑے اچھے حالات میں ہیں۔اور آج اپنی کمائی کو دیکھیں اور پھر اپنی قربانی کے معیاروں کا بھی اندازہ لگائیں۔پھر ایک خادم کے تعلق میں جو ہر وقت قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ: جبی فی اللہ منشی محمد اروڑا نقشہ نویس مجسٹر یٹی۔منشی صاحب محبت اور خلوص اور ارادت میں زندہ دل آدمی ہیں۔سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔خدمات کو نہایت نشاط سے بجالاتے ہیں۔بلکہ وہ تو دن رات اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔عجیب منشرح الصدر اور جان نثار آدمی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔شاید ان کو اس سے بڑھ کر اور کسی بات میں خوشی نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اور اپنے مال اور اپنے وجود کی ہر یک توفیق سے کوئی خدمت بجالا ویں۔وہ دل و جان سے وفادار اور مستقیم الاحوال اور بہادر آدمی ہیں۔خدائے تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 532)