خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد سوم 578 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء نام بتایا جو اس نے بادلوں سے سنا تھا۔باغ کے مالک نے نام پوچھنے کی وجہ پوچھی۔تو اس نے بتایا کہ اس طرح میں نے بادل سے آواز سنی تھی۔وہ کون سا نیک عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم پر اتنا مہربان ہے۔باغ کے مالک نے کہا کہ میرا یہ طریق کار ہے کہ باغ سے جو بھی آمد ہوتی ہے اس کا ایک تہائی (1/3 حصہ ) خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔اور 1/3 حصہ اپنے اہل وعیال کے گزارے کے لئے ، گھر کے خرچ کے لئے رکھ لیتا ہوں اور 1/3 حصہ دوبارہ اس باغ کی نگہداشت اور ضرورت کے خرچ وغیرہ کے لئے رکھ لیتا ہوں۔(مسلم - كتاب الزهد۔باب فضل الاتفاق على المساكين وابن السبيل) تو اس 113 کی قربانی کی وجہ سے دیکھیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر کس قدر فضل فرمارہا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میری خاطر قربانی کرتے ہیں ان کو بغیر اجر کے نہیں جانے دیتا۔دیکھیں کس کس طرح نوازتا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے آپ کے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قربانیوں کا فہم اور ادراک عطا فرمایا ہے اور حیرت انگیز طور پر انہوں نے قربانیوں کے معیار قائم کئے ہیں۔اس بارے میں اپنے صحابہ کی مثال دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ایسا ہی ہمارے دلی محبت مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں۔اور صاحبزادہ پیر جی سراج الحق صاحب نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کر کے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔اور میاں عبداللہ صاحب سنوری اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوئی اور منشی چودہری نبی بخش صاحب بٹالہ ضلع گورداسپورہ ، اور منشی جلال الدین صاحب یلانی وغیرہ احباب اپنی اپنی طاقت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری