خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد سوم 580 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء پھر منشی ظفر احمد صاحب کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی ضرورت کے لئے رقم کا اظہار فرمایا کہ ان کی جماعت ادا کر سکتی ہے تو وہ لینے کے لئے گئے اور گھر جا کر بیوی کا زیور بیچ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں وہ رقم پیش کر دی اور یہ نہ بتایا کہ یہ رقم کہاں سے حاصل ہوئی ہے، کس طرح حاصل ہوئی ہے۔کچھ عرصے بعد جب ان کے دوسرے ساتھیوں کو علم ہوا تو بڑے ناراض ہوئے کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا، ہمیں کیوں ثواب سے محروم رکھا۔تو یہ جذبے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے زمانے میں اپنے ماننے والوں میں پیدا کئے۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جو حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے خسر تھے اور حضرت ام ناصر کے والد تھے ، ان کے بارے میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ قربانی میں اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اگر یہ کچھ نہ بھی دیں تب بھی ان کے قربانی کے وہ معیار جو پچھلے ہو چکے ہیں بہت اعلیٰ ہیں ، وہ ہی کافی ہیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی مقصد کے لئے تحریک فرمائی تو انہوں نے (ڈاکٹر صاحب نے ) اپنی تنخواہ جو اس وقت ان کو ملی تھی فوری طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پوری کی پوری بھجوادی۔اُن کے قریب جو کوئی موجود تھے انہوں نے کہا کہ کچھ اپنے خرچ کرنے کے لئے بھی رکھ لیں ، آپ کو بھی ضرورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج خدا کے مسیح نے دین کی ضرورت کے لئے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔میری ضرورتیں دینی ضرورتوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔اس لئے یہ ساری کی ساری رقم جو میرے پاس موجود ہے فوری طور پر بھجوا رہا ہوں۔غرض کہ ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔ایک دفعہ کسی نے اعتراض کیا کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہے جو اتنی قربانی کرنے والا ہو تو اس معترض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: "آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ