خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 559 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 559

خطبات مسرور جلد سوم 559 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء رب کی عبادت کرو، اس طرح بیان فرماتے ہیں۔فرمایا کہ : ”اے لوگو! اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا۔پھر فرمایا: ” عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اسی سے دل لگاؤ۔پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں بیج سمجھا جائے اور جو شخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کا فکر رہے تو وہ بھی ایک بت پرستی ہے۔بت پرستی کے یہی تو معنی نہیں کہ ہندوؤں کی طرح بت لے کر بیٹھ جائے اور اس کے آگے سجدہ کرے۔حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے۔(الحکم جلد 12 نمبر 48 مورخہ 22 اگست 1908ء صفحہ نمبر 1) پھر آپ فرماتے ہیں: ”جب انتہا درجہ تک کسی کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے تو وہ معبود ہو جاتا ہے اور یہ صرف خدا تعالیٰ ہی کا وجود ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔کسی انسان یا اور مخلوق کے لئے ایسا نہیں کہہ سکتے۔(الحكم جلد 9 نمبر 43 مورخه 10 دسمبر 1905ء صفحه 5) پس کسی سے بھی ضرورت سے زیادہ محبت یا اپنے کسی کام میں بھی ضرورت سے زیادہ غرق ہونا اس حد تک Involve ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہوش ہی نہ رہے، یہ شرک ہے۔کاروباری آدمی ہے یا ملا زمت پیشہ ہے۔اگر نمازوں کو بھول کر ہر وقت صرف اپنے کام کی ، پیسہ کمانے کی فکر ہی رہے تو یہ بھی شرک ہے۔نوجوان اگر کمپیوٹر یا دوسری کھیلوں وغیرہ یا مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں جس سے وہ اللہ کی عبادت کو بھول رہے ہیں تو یہ بھی شرک ہے۔پھر گھروں میں بعض ظاہری شرک بھی غیر محسوس طریقے سے چل رہے ہوتے ہیں ، اس کا احساس نہیں ہوتا۔ایک طرف تو احمدی کہلاتے ہیں گو یہ بہت کم احمدی گھروں میں ہے جبکہ دوسرے لوگوں میں بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی ایک آدھے گھر میں بھی کیوں ہو۔ایسے گھروں میں بعض دفعہ ایسی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جن میں گند اور غلاظت کے علاوہ دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا کو دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔پھر ان مورتیوں کو جو پوجنے والے ہیں یہ لوگ اپنے گھروں میں ان چیزوں کو رکھتے ہیں،