خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 558
خطبات مسرور جلد سوم 558 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء بھی آپ نے سن لیا ہے، اس میں خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔اور بڑے واضح الفاظ میں یہ بتا کر نصیحت فرمائی ہے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہ تمہارا رب ہے، اس نے پیدا کرنے کے بعد تمہارے لئے سامان بھی میسر فرمائے ہیں۔اس نے تم سے پہلوں کو بھی پیدا کیا تھا ، ان کی بھی پرورش کی تھی۔پس اس احسان پر کہ تمہیں اس نے پیدا کیا، شکر گزاری کے طور پر تمہیں چاہئے کہ اس کی عبادت کرو، اور یہ عبادت بھی تمہیں تقویٰ میں بڑھائے گی اور جب تقویٰ میں بڑھو گے تو خدا کا مزید قرب حاصل کرنے والے بنو گے اور اس کے فضلوں کے وارث بنو گے۔کیونکہ تم اپنے اس رب کی عبادت کر رہے ہو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمام مخلوق کو بھی پیدا کیا ہے۔وہ خدا رب العالمین ہے، تمام عالم کو پیدا کرنے والا ہے، تو جو خدا اس کائنات کی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس سے دور جا کر تم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہو ، کس طرح زندگیاں گزار سکتے ہو۔اگر تم حقیقت میں اس کے سامنے جھکنے والے بنو گے تو وہ علاوہ تمہیں تقویٰ میں بڑھانے کے اپنا قرب حاصل کرنے والا بنانے کے تمہیں رزق بھی ایسے ایسے ذریعوں سے دے گا جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا۔اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا۔اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کو رزق آنے کا خیال بھی نہیں ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے تقویٰ ضروری ہے تا کہ پیار حاصل کرنے کے بعد یہ نعمتیں ملیں۔اور تقویٰ حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا جیسا کہ پہلے بھی واضح ہو گیا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں ، تمہیں رزق بھی دیتا ہوں تمہیں پالنے کے سامان بھی پیدا کرتا ہوں۔اور تمہاری ضروریات بھی پوری کرتا ہوں۔اور تمام کائنات کا پیدا کرنے والا بھی ہوں۔یہ تمام کائنات جو ہے میرے ایک اشارے پر حرکت کرنے والی ہے۔ذرا سا اس کائنات کا بیلنس (Balance) خراب ہو جائے تو تباہی و بربادی آ جائے۔پس فرمایا کہ میری عبادت کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس مضمون کو یعنی یہ بتانے کے لئے کہ اپنے