خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 560

خطبات مسرور جلد سوم 560 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء شیلفوں میں سجا کر رکھا ہوتا ہے یا بعض خاص جگہ پر رکھا ہوتا ہے۔تو ڈراموں میں دیکھ دیکھ کر ان کے دیکھا دیکھی بعض اپنے گھروں میں بھی ان مورتیوں کو سجا لیتے ہیں۔بازار میں ملنے لگ گئی ہیں کہ سجاوٹ کر رہے ہیں۔اپنے گھروں میں ڈرائنگ رومز وغیرہ میں شیلفوں میں رکھ لیتے ہیں۔تو پھر ان فلموں کو دیکھنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ احساس ختم ہو جاتا ہے۔ان مورتیوں کو گھروں میں رکھنے کی وجہ سے، چاہے سجاوٹ کے طور پر ہی ہوں ، احساس مر جاتا ہے۔اور اگر کسی گھر میں عبادتوں میں سستی ہے، نمازوں میں سستی ہے تو ایسے گھروں میں پھر بڑی تیزی سے گراوٹ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہر احمدی کو نہ صرف ان لغویات سے پر ہیز کرنا ہے بلکہ اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی اوپر لے کر جانا ہے۔ہم ہر نماز میں ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن کی دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں یا تیری ہی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں کہ ہمیں عبادت کرنے والا بنا۔اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے یقیناً اس کو ہر قسم کے شرک سے پاک ہونا چاہئے۔پس اس لحاظ سے بھی ہر احمدی کو اپنے دل کو ٹولنا چاہئے کہ ایک طرف تو ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بننے کی خدا تعالیٰ سے دعامانگ رہے ہیں دوسری طرف دنیا داری کی طرف ہماری نظر اس طرح ہے کہ ہم اپنی نمازیں تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن اپنے کام کا حرج نہیں ہونے دیتے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں رازق ہوں اور اپنی عبادت کرنے والوں کے لئے رزق کے راستے کھولتا ہوں۔لیکن ہم منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ بات سچ ہے ، حق ہے لیکن ہمارے عمل اس کے الٹ چل رہے ہیں۔اُس وقت جب ایک طرف نما ز بلا رہی ہو اور دوسری طرف دنیا کا لالچ ہو، مالی منفعت نظر آ رہی ہو تو ہم میں سے بعض رالیں ٹپکاتے ہوئے مال کی طرف دوڑتے ہیں۔اس وقت یہ دعوے کھو کھلے ہوں گے کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔پس جماعت کے ہر طبقے ، عورت، مرد، بچے ، بوڑھے ، جوان، ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر کیا روحانی تبدیلی ہم میں پیدا ہوئی ہے۔کیا ہماری عبادتوں کے معیار بڑھے ہیں یا وہیں کھڑے ہیں یا گر رہے ہیں، کہیں کمی تو نہیں آ رہی۔جب ہر کوئی خود اس نظر سے اپنے