خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد سوم 556 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء والا بنانا تھا۔اور آپ نے اپنی آمد کے مقاصد میں سے سب سے بڑا مقصد یہی بیان فرمایا ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔: ”خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد ہر احمدی کا یہی مقصد ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے چلے جانے کی کوشش کرتا رہے۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے جانے کے لئے یا اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لئے جو کوشش ہے اس میں ایک تو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس کی عبادت کرنا ہے، جس کا قرآن کریم میں بڑا واضح ذکر ہے یعنی نماز، روزہ ، زکوۃ اور حج ہیں۔یہ عبادات ہیں۔اور پھر دوسرے احکامات ہیں جو معاشرے کو حسین بنانے اور آخر کار اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے حقیقی عبد بنانے والے احکامات ہیں۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ سب کچھ یعنی بندے کو خدا تعالیٰ کے حضور جھکانا اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والا بنانا، اس نور کی وجہ سے ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمایا ہے۔پس آج اس زمانے میں خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے راستے اگر کسی کو نظر آ سکتے ہیں تو وہ احمدی کو نظر آسکتے ہیں۔کیونکہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستہ رہنے کا عہد کیا ہے۔کیونکہ اس نے یہ عہد کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق جس حکم اور عدل نے آنا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنا تھا اس کو ماننے کے بعد اس کے ہر حکم کو سچے دل سے ماننے والے بنیں گے۔یہ ہر احمدی کا عہد ہے، یہ عہد ہے اور یہ عہد ہونا چاہئے۔اگر آج ہر احمدی اس سوچ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کر رہا تو وہ آپ کے لائے ہوئے نور سے بھی حصہ نہیں پا رہا اور وہ