خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد سوم 557 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء خدا تعالیٰ کے احکامات پر بھی عمل نہیں کر رہا اور اسی طرح اس کا عبادت گزار بھی نہیں ہے۔پھر تو صرف منہ کی باتیں ہیں کہ ہم احمدی ہیں جبکہ عمل اس سے مختلف ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوئی نئی شریعت تو لے کر نہیں آئے تھے۔آپ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے طور پر آپ کی لائی ہوئی شریعت یعنی قرآن کریم کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے آئے تھے۔آپ تو دنیا کو اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنانے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں لیکن اگر ایک احمدی ہونے کا دعوی کرنے والا ان باتوں پر عمل کرنے والا نہیں ہے تو وہ کبھی بھی اس نور سے منور نہیں ہو سکتا ، وہ کبھی بھی اس روشنی سے حصہ نہیں پاسکتا جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔پس ہر احمدی کو ، ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے منسوب کرتا ہے، ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق عبادت گزار بندہ بھی بنا ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ کے جو دوسرے احکامات ہیں ان پر بھی عمل کرنا ہو گا۔آج ان باتوں کو کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرما دیا ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔آپ نے اپنی جماعت کو خصوصاً اور دنیا کو عموماً بڑے درد سے ایک خدا کی طرف آنے ، اس کی عبادت کرنے ، اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی بار ہا نصیحت فرمائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے، اگر چہ تمام وجو دکھونے سے حاصل ہو۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحه 21) پس ہر احمدی کا جو پہلا مقصد ہونا چاہیئے وہ اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے۔اور اس کے لئے سب سے بنیادی چیز اس کی عبادت ہے۔جو آیت میں نے شروع میں تلاوت کی ہے، ترجمہ