خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 536
خطبات مسرور جلد سوم 536 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء میرے اندر یہ نیکی ہے بلکہ نیکی کو مزید عاجزی کی طرف لے جانا چاہئے ، مزید عاجزی کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے۔اور پھر یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہ کوئی چیز حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی زندگی کا مستقل حصہ بن سکتی ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے نور سے منور کیا ہے۔اکثریت جو یہاں بیٹھی ہے، یا جرمنی میں آئی ہوئی ہے ان کے بزرگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ملاقات میں آتے ہیں تو اکثر یا بعض لوگ تعارف تو یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے نانا یا دادا یا پڑ دادا یا پڑ نا ن صحابی تھے۔الحمد للہ یہ بڑا اعزاز ہے لیکن یہ اعزاز اس وقت تک ہے جب تک آپ خود بھی ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیک اور اعلیٰ اور پاک نمونے قائم کرنے والے ہوں گے۔دین کی اہمیت اپنے اندر اور اپنی نسلوں کے دلوں میں قائم کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر آپ کی توقعات کے مطابق عمل کرنے والے ہوں گے۔بعض خواتین اپنے تعارف تو صحابہ کے حوالے سے کروا رہی ہوتی ہیں لیکن لباس اور پردے کی حالت اور فیشن سے لگتا ہے کہ دین پر دنیا غالب آ رہی ہے۔جماعت سے ایک تعلق تو ہے، ایک پرانا تعلق ہے، خاندانی تعلق ہے ایک معاشرے کا تعلق ہے لیکن ظاہری حالت جو معاشرے کے زیر اثر اب بن رہی ہے وہ دینی لحاظ سے ترقی کی طرف جانے کی بجائے نیچے کی طرف جارہی ہے۔اور پھر یاد رکھیں کہ ظاہری حالت کا تعلق دل کی کیفیت سے بھی ہوتا ہے۔اس کا دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ دل بھی اس ظاہری کیفیت کے زیر اثر آ جاتا ہے۔اس لئے صرف اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہئے ، یہی فخر کا مقام نہیں ہے کہ ہم صحابی کی اولاد ہیں۔مرد ہو یا عورت، جب تک آپ اپنے اندر خود پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کریں گے باپ دادا کا صحابی ہونا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو فرمایا تھا کہ تمہیں میری بیٹی ہونا کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک تمہارے اپنے عمل نیک نہیں ہوں گے۔اس لئے جو جلسے کے تین دن ہیں جو گزشتہ ہفتے میں آپ کو تین دنوں کا روحانی ماحول میسر آیا ہے اب گھروں میں بیٹھ کر بھی اس