خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد سوم 535 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء نہیں دے گی۔اگر جلسہ کے ماحول کی دوری آپ کو تقویٰ سے دور لے گئی ہے تو وہ تین دن اس نماز کی طرح بے فائدہ ہیں جس میں آپ نے کسی مشکل اور مصیبت میں پڑنے کی وجہ سے، کسی ذاتی تکلیف کی وجہ سے رو رو کر دعا تو کر لی۔لیکن اس نماز نے آپ میں یہ تبدیلی پیدا نہ کی کہ آپ مستقل پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق نماز ادا کریں اور پھر زائد عبادتوں کی طرف توجہ کریں۔تو جلسہ بھی اسی طرح ہے کہ ایک جلسے میں سنی اور سیکھی ہوئی باتوں کو اپنے دلوں میں بٹھانا ہے اور اس کا اثر اگلے جلسے تک قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے اور پھر اگلے سال ایک نئی روح ، ایک نئے جوش ، ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر چارج (Charge) ہو کر آئندہ کے لئے پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ورنہ آپ جلسے کے فیض سے حصہ پانے والے نہیں ہوں گے۔جلسہ پر آپ نے مختلف عنوانات کے تحت تقریریں سنیں لیکن سب کا محور ایک ہی تھا کہ تقویٰ اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنا۔پس اس تقوی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کی دعاؤں کے مستقل وارث بنتے چلے جائیں گے۔اب کون ہے جو یہ کہے کہ نہیں جی جلسے کے دنوں میں کافی فیض پالیا میری مصروفیات اس قسم کی ہیں کہ میں مستقل نہ اتنے انہاک سے، نہ با قاعدگی سے نمازیں پڑھ سکتا ہوں ، نہ توجہ دے سکتا ہوں اور نہ بعض دوسرے نیکی کے کام کر سکتا ہوں۔منہ سے تو نہیں کہتے اور کوئی احمدی کہنے کی جرات بھی نہیں کرتا۔لیکن عملاً بعض لوگ اپنے عمل سے یہی جواب دے رہے ہوتے ہیں۔پس تقویٰ کی روح کو سمجھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کو جذب کرنے والے بنیں اور وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوں اور اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرر۔کر رہے ہوں۔ان سنی ہوئی باتوں کو ، ان نصائح کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنار ہے ہوں۔اور خود بھی ہمیشہ اس پر قائم رہنے کے لئے دعائیں کر رہے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرما کہ جو کچھ ہم نے سیکھا اب یہ ہمارے اندر قائم ہو جائے۔انسانی دل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا اس لئے ہمیشہ دین پر اور تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔کسی کو کبھی یہ بڑائی کا احساس نہیں ہونا چاہئے کہ