خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد سوم 519 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء کے لئے ، جماعت کی مضبوطی اور وقار کے لئے ، ایک دوسرے کے قصور معاف کرتے ہیں۔اپنی جھوٹی اناؤں کو دباتے ہیں۔یہ نہیں کہ ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھانا شروع ہو جائیں ، جھوٹی انائیں رکھنے والے ہوں۔اس زعم میں بیٹھے ہوں کہ ہمارا خاندان بڑا ہے۔جب اس فساد کے زمانے میں اس دنیا داری کے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سلسلۂ بیعت میں شامل ہو گئے تو پھر بڑائی کسی قبیلے، برادری یا خاندان کی نہیں ہے۔پھر بڑائی تقوی میں ہے۔جیسا کہ فرمایا ﴿إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ ﴾ (الحجرات: 14) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔اور متقی کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ہر وقت اس فکر میں ہے کہ میں حبل اللہ کو پکڑے رکھوں۔پس اگر اللہ کی محبت حاصل کرنی ہے تو ان جھوٹی اناؤں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔اور نہ صرف یہ کہ کسی سے برائی نہیں کرنی یا برائی کا جواب برائی سے نہیں دینا، بلکہ احسان کا سلوک کرنا ہے۔یہی باتیں ہیں جو ایک حسین معاشرہ قائم کرتی ہیں اور اس کے لئے ایک احمدی کو جہاد کرنا چاہئے۔کیونکہ اگر دل تقویٰ میں ہے تو اللہ تعالیٰ کے دین کی مضبوطی کی خاطر ، اپنے ایمانوں میں مضبوطی کی خاطر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے گی۔اور اپنی اناؤں اور غصے کو دبانے کی توفیق ملتی رہے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔( یعنی غرور اور تکبر غضب سے پیدا ہوتا ہے، غصے سے پیدا ہوتا ہے ) اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحه 22-23 جدید ایڈیشن) | تو جس طرح ایک نیکی سے دوسری نیکی پھوٹتی ہے اسی طرح ایک برائی سے دوسری برائی