خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد سوم 520 خطبہ جمعہ 26 راگست 2005 ء پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لئے ہر برائی سے بچنے کی ایک احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور خاص طور پر غصہ جس سے غرور اور تکبر پیدا ہوتا ہے یا غرور اور تکبر جس کی وجہ سے انسان غصے میں آجاتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ ایک بہت مشکل امر ہے۔بہت بڑی مشکل چیز ہے لیکن تمہیں ایک رکھنے کے لئے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کیلئے انتہائی بنیا دی امر ہے۔ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نفرت نہیں دئے جاتے“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 104 جدید ایڈیشن) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ مزید جھنجھوڑنے والے ہیں۔ایک طرف تو ہم اللہ کی رسی کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے دعویدار ہوں، ایک طرف تو ہم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے دعویدار ہوں اور دوسری طرف بداخلاقی کے نمونے دکھا رہے ہوں۔ایک طرف تو ہم دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لانے کے دعویدار ہوں اور دوسری طرف ہمارے اپنے فعل ایسے ہوں کہ ہمارے ایسے فعلوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں معارف اور حکمت سے محروم کر رہا ہو۔جب ہمارے اپنے اندر حکمت و معرفت نہیں ہوگی یا معارف پیدا نہیں ہوں گے تو دوسروں کو کیا سکھائیں گے۔پس ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہو گا۔اپنے جائزے لینے ہوں گے۔کیونکہ جس میں عقل اور حکمت نہ ہو، جس کی عقل موٹی ہو گئی ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی رسی کو پکڑنے کا کیا ادراک ہوسکتا ہے۔یہاں اس ملک میں آکر آپ میں سے بہتوں کے جو معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں اس بات سے آپ کے دلوں میں ایک دوسرے کی خاطر مزید نرمی آنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے آگے سر مزید جھکنا چاہئے کہ اس نے احسان فرمایا اور اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رسی کو مزید