خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 517

خطبات مسرور جلد سوم 517 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء بھی کی تھی۔تو بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پر عمل بھی کر رہی ہے۔لیکن اگر ان باتوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں حقوق العباد کے اعلیٰ معیار ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی تو یہ روزے بھی برکار ہیں، یہ نوافل بھی برکار ہیں ، یہ دعا ئیں بھی بریکار ہیں۔ہم جماعت کے عہدیداروں کو یہ رپورٹ تو دے دیں گے کہ خلیفہ وقت کو بتا دو کہ جماعت کے اتنے فیصد افراد نے روزے رکھے یا نوافل پڑھے یا دعا ئیں کر رہے ہیں اور اس پر عمل کر رہے ہیں۔لیکن جب آپس کے تعلقات نبھانے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے ، ایک دوسرے کی خاطر قربانیاں دینے اور قربانیوں کے وہ نمونے قائم کرنے ، جن کی میں نے مثال دی ہے کے بارے میں پوچھا جائے گا تو پتہ چلے گا کہ اس طرف تو توجہ ہی نہیں ہے۔یا اگر توجہ پیدا ہوئی بھی ہے تو اس حد تک ہوئی ہے جس حد تک اپنے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔اس وقت تک حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے جب تک اپنی ذات کی قربانی نہ دینی پڑے۔اس وقت تک توجہ پیدا ہوئی ہے جب تک اپنے مال کی قربانی نہ دینی پڑے۔مال کی قربانی کے ضمن میں یہاں یہ بھی ضمنا ذکر کر دوں۔جرمنی نے آج سے 10 سال پہلے 100 مساجد کا وعدہ کیا تھا۔اس کی رفتار بڑی ست ہے۔تو خلافت جو بلی منانے کے لیے اب اس میں بھی تیزی پیدا کریں اور خدام، انصار، لجنہ پوری جماعت مل کر ایک منصوبہ بنائیں کہ ہم نے سال میں صرف چار پانچ مساجد پیش نہیں کرنی بلکہ 2008 ء تک اس سے بڑھ کر مساجد پیش کرنی ہیں۔اگر آپ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کام میں بجت جائیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔اور آپ کی مساجد کی تعمیر کی رفتار بھی انشاء اللہ تعالی تیز ہوگی۔جو روکیں راستے میں پیدا ہورہی ہیں وہ بھی دور ہوں گی۔لیکن بہر حال اس کے لیے دعاؤں پر زور دینے اور پختہ ارادے کی ضرورت ہے۔میں نے یہ ضمناذ کر کر دیا ہے۔تو قربانی کا میں ذکر کر رہا تھا۔اگر تو آپ کی توجہ صرف اس حد تک پیدا ہوئی ہے جہاں تک اپنے قریبیوں کے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔اپنے اور اپنے قریبیوں کے مفاد حاصل کرنے کے لیے اگر غلط بیانی اور نا جائز ذرائع استعمال کر رہے ہوں اور اگر اس کو بھی کوئی عار نہ سمجھتے ہوں تو پھر