خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد سوم 44 خطبہ جمعہ 28 /جنوری 2005ء پھر اس علاقے کے میئر بھی لمبا عرصہ ہمارے خلاف رہے ہیں اور چند سال پہلے مشن ہاؤس اور مسجد کو بھی میئر نے خود آ کے رسیل (Seal) کر دیا تھا۔اور نہ صرف مسجد کو سیل (Seal) کر دیا تھا بلکہ جوتوں سمیت مسجد کے اندر چلے گئے تھے۔اور پھر ہمارے وہاں کے لوگوں کو بھی سخت برا بھلا کہا، جماعت کو بھی سخت برا بھلا کہا۔اس کی طرف سے بھی فکر تھی تو جماعت نے اس کو بھی جلسے پر آنے کی دعوت دی تھی اور ان کا خیال ہے کہ وزارت داخلہ نے بھی ان کو کہا تھا کہ نمائندگی کریں اور جلسہ اٹینڈ کریں۔تو بہر حال میئر نے آنے کی حامی تو بھر لی تھی کہ آؤں گا لیکن صرف چند منٹ کے لئے۔لیکن پھر چند منٹ کی بجائے پورا وقت جو میری تقریر کا آخری سیشن تھا اس کے خاتمے تک بیٹھے رہے۔اور پھر یہ کہ کجاوہ وقت تھا کہ مسجد میں میئر صاحب جوتوں سمیت آئے تھے اور کجا یہ کہ سٹیج پر آنے سے پہلے جوتے اتار رہے تھے۔اور پھر اپنا پیغام بھی دیا۔میری جلسے کی تقریر کا فریج میں ترجمہ ہو رہا تھا وہ بھی سنا اور جاتے ہوئے امیر صاحب کو کہہ گئے کہ اس تقریر کو کھوا کر مجھے دو میں وزیر داخلہ کو دوں گا۔اسلام کا یہ پہلو تو پہلی دفعہ سننے اور دیکھنے میں آیا ہے۔بلکہ یہاں تک کہا کہ اب میں تمہارے ہر کام میں تمہاری مدد کے لئے تمہارے ساتھ چلوں گا۔تو یہ تبدیلیاں، یہ دلوں کو پھیرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔پھر اس بات سے بھی بڑے متاثر تھے کہ ایم ٹی اے کے ذریعے سے قادیان والے یہاں کے نظارے دیکھ رہے ہیں اور ہم لوگ وہاں بیٹھے قادیان کے نظارے دیکھ رہے تھے۔تو یہ بھی جماعت کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ہزاروں میل کی دوری کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے جلسوں سے فیض اٹھا رہے تھے۔تو یہ ہے وحدانیت جس کو قائم کرنے کے لئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا کہ ہر جگہ سے ایک طرح ، ایک خدا کا نام بلند ہو۔تو جہاں دینی فوائد اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے اور ان دوروں سے ہوتے ہیں۔جماعت کی تربیت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خود بخود ایسے بھی سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ غیروں پر بھی اسلام کی خوبیوں کا اثر قائم ہو جاتا ہے۔یہ سب اثر اور رعب اللہ تعالیٰ کی نصرت سے قائم ہوتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وعدہ فرمایا تھا۔نُصِرْتُ بِالرُّغب