خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد سوم 43 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء تعلق ہے اس میں تیزی پیدا ہو بھی جاتی ہے۔لیکن ہم اس انتظار میں بیٹھ بھی نہیں سکتے کہ خلیفہ وقت کا دورہ ہوگا تو کام ہوگا۔وہ براہ راست ہم سے مخاطب ہوگا تو کام ہو گا۔کام بہر حال ہوتے رہنے چاہئیں۔جہاں تک میرے دوروں کا تعلق ہے، گزشتہ سال میں بھی جس حد تک ممکن تھا دورے کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور جماعت کے مخلصین کی دعاؤں کی قبولیت کے نظارے بھی دیکھے، جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ آپ کی جماعت نے غالب آنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہمیں موقع دے کر ان فضلوں کا وارث بنا رہا ہے۔اب گزشتہ دنوں جو میں نے دورہ کیا ہے اس کا بھی تھوڑا سا حال بیان کر دیتا ہوں۔فرانس اور سپین کے دوروں اور جلسوں میں شمولیت کی توفیق ملی ، وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی تائید و نصرت کے بے شمار نظارے دیکھے۔اگر کوئی یہ کہے کہ اس میں ہماری کسی کوشش یا ہوشیاری یا چالا کی کا دخل ہے تو وہ غلط بیانی سے کام لینے والا ہے، وہ جھوٹ بولنے والا ہے۔فرانس کے جلسے میں ، فرانس کی جماعت کو بھی امید نہیں تھی جس طرح وہاں کے سر برا ہوں ، صدر اور وزیر اعظم نے اور دوسرے وزیروں نے پیغام بھجوائے ، اس میں کسی انسانی کوشش کا دخل نہیں تھا۔خاص طور پر ان حالات میں جب ہر جگہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ایک فضا قائم ہوئی ہوئی ہے۔اور پھر وہاں چند دن پہلے ہی وزارت داخلہ نے امیر صاحب فرانس کو بلا کر سوال جواب کئے۔وہ کہتے ہیں کئی آدمیوں کا پینل تھا اور اس طرح وہ جماعت اور اسلام کے بارے میں تابڑ تو ڑ اور سخت لہجے میں بات کر رہے تھے اور امیر صاحب سے سوال کر رہے تھے کہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ ہمارے جلسے میں بھی روک ڈالیں گے۔پھر جس علاقے میں ہمارا مشن ہاؤس ہے اور جہاں جلسہ ہوا ، وہ بھی ایسے لوگوں کا علاقہ ہے جن کو مذہب سے کم ہی تعلق ہے اور مسلمانوں کے خلاف تو خاص طور پر ان جگہوں پر فضا قائم ہوئی ہوئی ہے۔اور اس جگہ بھی انتظامیہ کو یہ خطرہ تھا کہ جلسے میں کہیں روک ڈالنے کی کوشش نہ ہو، علاقے کے لوگ کوئی اعتراض نہ اٹھانے شروع کر دیں۔