خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 495

خطبات مسرور جلد سوم 495 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005ء حکمت سکھاتا ہے جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔پس اس نبی عیب اللہ نے اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر ان لوگوں کو پاک کیا۔ان کو حکمت کی باتیں سکھائیں۔ان کو بتایا کہ معاشرے میں کس طرح رہنا ہے، تہذیب کیا ہے، تمدن کیا ہے۔ان کو خاندان کی چھوٹی سے چھوٹی اکائی یعنی گھر کی سطح پر بھی جو رشتوں کی ذمہ داریاں ہیں ان کے بارے میں بتایا۔آپس میں کس طرح ایک دوسرے کو اخلاق دکھانے ہیں اس کے بارے میں بتایا۔اور پھر ایک شہری کی حیثیت سے کس طرح رہنا ہے وہ اخلاق سکھائے ، ان کے بارے میں تعلیم دی۔پھر تم نے اپنے ہمسائے کے ساتھ کس طرح رہنا ہے۔اس کے کیا اخلاق تمہیں دکھانے چاہئیں۔تم نے بحیثیت ما تحت کس طرح رہنا ہے، کن اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔تم نے بحیثیت افسرا اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے۔غرض کہ معاشرے کے مختلف درجات میں ایک فرد پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور جس جس حیثیت سے ایک شخص نے جس طرح اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے وہ انہیں سکھایا یعنی اجڈ اور جاہل لوگوں کو با اخلاق انسان بنایا اور پھر انہیں باخدا انسان بنایا۔وہ لوگ جو خدائے واحد کے تصور سے ناواقف تھے انہیں اعلیٰ اخلاق کے ساتھ ساتھ ایک خدا کے حضور جھکنے والا اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا بنایا اور پھر اعلیٰ اخلاق کے بھی ایسے نمونے ان سے قائم کروائے جو مثال بن گئے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔یہ انقلاب اس رسول اور معلم اخلاق علی اللہ کی تعلیم سکھانے اور اس کے خدا تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے جو آپ عیب اللہ کو قوت قدسی عطا ہوئی اس کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ میں نے کہا زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس میں آپ نے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم نہ کئے ہوں۔اور نہ صرف خود قائم کئے بلکہ اپنے ماننے والوں میں بھی قائم فرمائے۔ان سب کو بیان کرنا تو ممکن نہیں، چند مختلف نمونوں کو میں مختلف جگہوں سے پیش کرتا ہوں جس سے آپ کے معلم اخلاق ہونے کی کچھ جھلکیاں نظر آتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے ہم پر اس احسان کی وجہ سے اس کے آگے سر جھکتا ہے کہ ہم آنحضرت عبل اللہ کے ان اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں۔آپ نے اپنی امت سے یہی توقع رکھی ہے کہ امت کا ہر فرد ان اعلیٰ اخلاق کو اپنائے۔اپنے ماننے والوں کو با اخلاق اور باخدا بنانے کے لئے آپ عیبی یا اللہ نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ با