خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد سوم 494 خطبہ جمعہ 19 اگست 2005 ء اسی طرح کی ایک لڑائی کا قصہ ہے ایک جنگ کا ، کہ ایک دفعہ ایک پرندہ ایک درخت پر گھونسلے میں اپنے انڈوں پر بیٹھا ہوا تھا تو عربوں کے سرداروں میں سے ایک جب وہاں سے گزرا اس نے اس کی طرف پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اس کو دیکھ کر کہا کہ تو میری پناہ میں ہے۔اگلے دن گیا تو دیکھا کہ وہ انڈے ٹوٹے پڑے ہیں ، زمین پر گرے ہوئے ہیں ، گھونسلہ بھی بکھرا ہوا ہے اور وہ چڑیا یا جو بھی پرندہ تھا بڑی درد ناک حالت میں درخت پر بیٹھا تھا۔اس شخص نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک اونٹنی نظر آئی جو وہاں چر رہی تھی ، اسے یقین ہو گیا کہ یہ گھونسلہ گرانے والی یہی اونٹنی ہے۔وہ اونٹنی ایک دوسرے قبیلے کے کسی سردار کے کسی مہمان کی تھی۔وہ اس کے پاس گیا کہ آج تو میں نے اس اونٹنی کو چھوڑ دیا ہے لیکن اگر آئندہ یہ اس طرف آئی تو میں اس کو مار دوں گا۔چنانچہ چند دنوں کے بعد وہ اونٹنی اس پہلے شخص جس نے یہ وارننگ دی تھی اور چڑیا کو پناہ دی تھی اس کے ریوڑ کے ساتھ مل کر پانی پینے لگی۔جانور مل جایا کرتے ہیں۔اس نے اس اونٹنی کو تیر مار دیا۔وہ زخمی ہو کے دوڑی اور جہاں اس کا مالک ٹھہرا ہوا تھا وہاں دروازے پہ جا کے گری اور مرگئی۔تو جس شخص کا یہ مہمان تھا جس کی اونٹنی مری وہاں شور پڑ گیا کہ دیکھو جی ہماری عزت برباد ہوگئی ، ہمارے مہمان کی اونٹنی کو مار دیا۔اس نے اس اونٹنی مارنے والے کو جا کے قتل کر دیا۔اور اس طرح جنگ شروع ہوئی اور 40 سال تک یہ جنگ جاری رہی۔اس کی ایک لمبی تفصیل ہے، میں نے مختصر طور پر بتایا ہے۔تو یہ تھی اس وقت عرب کے اجڈ پنے اور جہالت کی حالت۔اور ان عربوں کو اپنی ان باتوں پر بڑا فخر تھا۔عورت کی عزت نہیں تھی لڑکی پیدا ہوتی تو اسے مار دیا جاتا۔تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔شراب خوری ، جوا اور زنا کو بڑائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔بڑے فخر سے اس کو بیان کیا جاتا تھا۔غرض کہ ان لوگوں کے اخلاق انتہائی گرے ہوئے تھے۔زندگی کا کوئی پہلو بھی لے لو ذلیل ترین حرکتیں ہوا کرتی تھیں۔پھر وہ زمانہ آیا جس کا اللہ تعالیٰ، اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے، ذکر فرماتا ہے کہ یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان کیا جب اس نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور