خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد سوم 493 (32) خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء آنحضرت صلی اللہ علیم : ایک عظیم معلم اخلاق للعالم اصلاح معاشرہ کے لئے نرمی ، محبت اور شفقت سے کام لینا چاہئے خطبه جمعه فرموده 19 اگست 2005 ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔برطانیہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ ( إن عمران (165) پھر فرمایا:۔ایک زمانہ تھا جب عرب دنیا کے لوگوں کو باہر کی دنیا ، دوسری دنیا ایک معمولی حیثیت دیتی تھی اس لحاظ سے کہ بعض علاقے کے لوگوں کو بالکل جاہل اور اجد سمجھا جاتا تھا۔اکا دُکا ان کے شہروں میں پکے مکان یا پتھر کے مکان ہوتے تھے اور اکثریت جھونپڑا نما مکانوں میں رہا کرتی تھی۔اور دیہاتی ماحول تو بالکل ہی عارضی جھونپڑیوں کا ماحول تھا۔اور جس طرح دنیا ان کو جاہل اجد سمجھتی تھی عملاً تہذیب سے یہ بالکل عاری لوگ تھے۔حالت ان لوگوں کی یہ تھی کہ ذرا ذراسی بات پر لڑائیاں ہوتی تھیں تو سالوں چلا کرتی تھیں۔