خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 492

خطبات مسرور جلد سوم 492 خطبہ جمعہ 12 اگست 2005 ء جس کی چند مثالیں میں نے پیش کی ہیں۔بے شمار مثالیں ہیں۔اور غیر بھی اس زمانے میں اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔چنانچہ کیرن آرمسٹرانگ نے لکھا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیشہ سادہ وسائل کو صحیح استعمال کرتے ہوئے اور قناعت سے پُر زندگی گزاری۔اور اُس وقت بھی آپ سے اس نمونے کا اظہار ہوا جب آپ عرب کے طاقتور ترین سردار تھے۔آپ کو ہمیشہ آسائشوں اور آرم دہ زندگی سے نفرت تھی اور اکثر ایسا ہوتا کہ آپ کے گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا۔آپ کے پاس کبھی ایک جوڑے کپڑے سے زیادہ ایک وقت میں نہ ہوا۔اور جب کبھی آپ کے صحابہ نے آپ کو بعض مواقع پر اعلیٰ لباس پہنے کو کہا ( موقع کی مناسبت سے ) تو آپ نے ہمیشہ انکار کیا بلکہ عام سادہ کھدر کے لباس کو ترجیح دی جو ہر معمولی آدمی پہنتا تھا۔جب کبھی آپ کو تحائف اور مال غنیمت آیا آپ نے اسے غریبوں میں تقسیم فرما دیا۔(اور آگے دیکھتی ہیں یہ سارا انہی کا بیان ہے ) اور حضرت عیسی کی طرح آپ مسلمانوں کو کہا کرتے تھے کہ غریب اور مسکین آدمی امراء سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔اسی طرح بعض اور منصف مزاج عیسائیوں نے آپ کو اس طرح کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا آپ کی یہ سادگی مسکینی اور قناعت اتنی واضع تھی کہ اس کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں جو اس نبی کی امت میں شامل ہونے کا دعوی کرنے والے ہیں یہ تو فیق دے کہ آپ کے اس اسوہ پر عمل کرتے ہوئے سادگی اور قناعت کو اپنا ئیں۔ایک ایک حدیث میں کئی کئی پیغام ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ ہمارے سامنے اسوہ ہیں، آنحضور نے جن پر عمل کر کے دکھایا یہ نمونے قائم فرمائے۔یہ ہمارے عمل کے لئے ہیں، ہماری بہتری کے لئے ہیں۔صرف سننے کے لئے اور کہانیوں کے لئے نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔