خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد سوم عادت ڈالو۔485 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر سادہ ماحول کا نقشہ ایک حدیث کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ : سنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا (یعنی دنیاوی چیزوں اور مال کا ) کہ ایک بار حضرت عمر آپ سے ملنے گئے ، ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمر نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمران کو دیکھ کر رو پڑے۔آپ نے پوچھا: اے عمر! تجھ کوکس چیز نے رُلایا ؟۔(حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ کسری اور قیصر تو تنعیم کے اسباب رکھیں ( یعنی ان کے پاس ہر قسم کی چیزیں اور نعمتیں موجود ہیں ) اور آپ جو خدا تعالیٰ کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر! مجھے دنیا سے کیا غرض ؟ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سنتا لے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 51 جدید ایڈیشن - البدر 8 جولائی 1904ء صفحہ 3-2) | تو یہ ہے نقشہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث کا بیان فرمایا ہے۔اور فرمایا کہ نبی اور رسول جو ہیں وہ آخرت کو ہی ہمیشہ مد نظر رکھتے ہیں۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ کی اس حالت کو دیکھ کر صحابہ نے کہا کہ ہم آپ کے لئے گدیلا بنا دیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا غرض۔بعض روایات میں گدیلے کے استعمال کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس لئے غلط فہمی نہ ہو جائے کہ گریلا کبھی استعمال نہیں کیا لیکن وہ گدیلا بھی اتنا سخت اور کھجور کے پتوں یا اس کے ریشے کا ہوتا تھا کہ وہ چٹائی کی طرح ہی جسم پر نشان