خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد سوم 423 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء دِينَ لِمَنْ لَّا عَهْدَ لَهُ ، یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کی پابندی نہیں کرتا، اس کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 135 مطبوعه بيروت) اپنے عمل سے امانتوں کے معیار قائم کرنے کے علاوہ عہد کے پورا کرنے کے بارے میں آپ نے کیا نمونے ہمیں دکھائے اور آپ کے عہد کے پابند ہونے کی دشمن نے کس طرح گواہی دی اس کی بھی ایک مثال دیکھ لیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوسفیان نے مجھ سے خود ذکر کیا کہ اس زمانے میں جبکہ ہمارے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا، میں شام کے علاقے میں تجارت کی غرض سے گیا۔ابھی میں شام میں ہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط قیصر روم ہرقل کے پاس پہنچا۔یہ خط دخیه گلبی لائے تھے۔انہوں نے بھر ی کے سردار کو یہ خط دیا کہ وہ ہر قل کے پاس آپ کا یہ خط پہنچا دے۔جب یہ خط ہر قل کو ملا تو پوچھا کہ عرب میں جو شخص نبی ہونے کا دعوی کر رہا ہے کیا اس کی قوم کا کوئی آدمی یہاں ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں کچھ لوگ اس علاقے میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ مجھے قریش کی جماعت سمیت بلایا گیا۔کہتے کہ جب ہم ہر قل کے دربار میں پہنچے تو ہمیں اس کے سامنے بٹھایا گیا۔پھر ہر قل نے پوچھاتم میں اس عربی شخص کا جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں اس کا قریبی رشتہ دار ہوں۔چنانچہ منتظمین نے مجھے ہر قل کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔پھر ہر قل نے ترجمان کو بلایا اور اسے کہا کہ ان لوگوں کو جو میرے سامنے بیٹھے ہیں کہو کہ میں اس شخص سے متعلق جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ابوسفیان سے بعض باتیں پوچھوں گا اگر یہ جھوٹ بولے تو تم مجھے پیچھے سے اشارہ کر کے بتا دینا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میرے بیٹھنے والے ساتھی میرا جھوٹ ظاہر کر دیں گے تو میں ضرور کذب بیانی سے کام لیتا۔تو بہر حال یہ ایک لمبی روایت ہے جہاں ہرقل نے بہت سے سوال پوچھے ان میں سے