خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد سوم 422 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء بیوی سے تعلقات قائم کرے۔پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔( سنن ابي داؤد كتاب الأدب - باب فى نقل الحديث) آج کل کے معاشرے میں میاں بیوی کی آپس کی باتیں جو اُن کی ہوتی ہیں وہ لوگ اپنے ماں باپ کو بتا دیتے ہیں اور پھر اس سے بعض دفعہ بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں۔لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ماں باپ کو خود عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے کرید کرید کے باتیں پوچھتے ہیں۔پھر یہی جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں۔اس لئے آپ نے فرمایا: میاں بیوی کی یہ باتیں کسی بھی قسم کی باتیں ہوں نہ ان کا حق بنتا ہے کہ دوسروں کو بتا ئیں اور نہ دوسروں کو پوچھنی چاہئیں اور سنی چاہئیں۔اگر اس نصیحت پر عمل کرنے والے ہوں تو بہت سارے جھگڑے میرے خیال میں خود بخود ختم ہو جائیں۔پھر آپ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو امانت لوٹا دے جس نے تم پر اعتماد کر کے تمہارے پاس امانت رکھی اور اس شخص سے بھی خیانت نہ کر جو تجھ سے خیانت کرتا ہے۔( سنن الترمذي - ابواب البيوع - باب ما جاء في النهى للمسلم۔۔۔۔۔۔یہ صرف نصیحت ہی نہیں بلکہ جیسا کہ ہم پہلے دیکھ آئے ہیں آپ نے کس طرح امانتیں لوٹانے کا حق ادا کیا۔پھر ہمیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ، حضرت ابو ہریرہ اس کی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں۔جب گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے، جھوٹ سے کام لیتا ہے۔جب اس پر اعتماد کیا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔( بخاری کتاب الشهادات باب من امر بانجاز الوعد) تو یہ بہت خوف کا مقام ہے۔اللہ ہر احمدی کو ایسی حالت سے محفوظ رکھے۔اور ہر ایک کو ہمیشہ بچوں ، ایمانداروں اور عہدوں کی پابندی کرنے والوں میں شامل رکھے۔ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ " لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَّا مَانَةَ لَهُ وَلَا