خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 424
خطبات مسرور جلد سوم 424 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء ایک عہد کے بارے میں بھی تھا۔ابو سفیان کہتے ہیں کہ سارے سوالوں کے بعد پھر اس نے جب مجھ سے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں) یہ پوچھا کہ کبھی اس نے غداری اور بدعہدی بھی کی ہے؟ تو میں نے کہا اس سے پہلے تو نہیں کی لیکن آج کل ہمارا اس سے صلح کا معاہدہ ہوا ہے ، نامعلوم اب وہ اس کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرے۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اس ساری گفتگو میں سوائے اس بات کے مجھے آپ کے خلاف کہنے کا کوئی اور موقع نہ ملا۔تو بہر حال اس جواب پر ہر قل نے کہا کہ میں نے تم سے پوچھا کہ کبھی اس نے غداری کی ہے۔تو تم نے کہا ہے کہ نہیں کی۔یہی تو رسولوں کا نشان ہوتا ہے کہ وہ کبھی بد عہدی اور غداری نہیں کرتے۔اور نہ ہی کبھی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔وہ قول کے پکے اور سچے ہوتے ہیں۔پس دیکھیں وہاں رہنے والوں کا سینہ نہیں کھلا جبکہ ہر قل کو یہ بات سمجھ آ گئی۔اللہ ہی ہے جو کسی کا سینہ کھولتا ہے۔پھر صلح حدیبیہ کے معاہدے کی پابندی کے ضمن میں ہی عہد کی پابندی کا یہ واقعہ بھی عدیم المثال ہے، جس کا تاریخ میں یوں ذکر آتا ہے کہ ابھی صلح حدیبیہ کا صلح نامہ لکھا جارہا تھا کہ ابو جندل بن سہیل بن عمروز نجیروں سے بندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں آئے جبکہ مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ پہلے تو بڑے ذوق وشوق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی خبر سن کر مکہ کی زیارت اور فتح کی امید سے آئے تھے۔اب جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح صلح کر کے واپس ہوتے دیکھا تو مسلمان بہت افسردہ دل ہو گئے اور قریب تھا کہ اس رنج سے ہلاک ہو جائیں۔تو بہر حال سہیل بن عمرو نے اپنے بیٹے ابو جندل کو کھڑا دیکھا تو ایک طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور حضور سے کہا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے تمہارے درمیان قضیہ کا اس کے آنے سے پہلے فیصلہ ہو چکا ہے۔یعنی میں اپنے بیٹے ابو جندل کو تمہارے ساتھ جانے نہ دوں گا۔حالانکہ یہ بھی غلط بات تھی۔بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو سچ کہتا ہے۔سہیل نے ابو جندل کو کھینچ کے پیچھے کرنا چاہا تا کہ قریش میں پہنچا دے۔ابو جندل نے شور کرنا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ ! اور اے مسلمانو! کیا میں کافروں میں واپس کر دیا جاؤں گا تا کہ وہ مجھ کو تکلیفیں پہنچا ئیں۔مسلمانوں کو اس سے بہت قلق ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے