خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد سوم 420 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء بھول گیا۔کہتے ہیں مجھے تین دن کے بعد یاد آیا۔پس میں گیا تو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کھڑے ہیں۔مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا اے نوجوان! تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا۔میں تین دن سے اس جگہ تیرا انتظار کر رہا ہوں۔(ابوداؤد - كتاب الأدب- باب في العدة) یعنی عہد کا اتنا پاس تھا۔اس سے کہہ دیا ٹھیک ہے میں تمہارے انتظار میں یہاں کھڑا ہوں۔اور کیونکہ ایک بات منہ سے نکال دی تھی کہ انتظار میں کھڑا ہوں اس لئے تین دن تک مختلف اوقات میں وہاں جاتے رہے، دیکھتے رہے اور خاص طور پر اس وقت جس وقت وہ کہہ کے گیا تھا که انتظار کریں آپ وہاں جا کے انتظار کرتے رہے۔تو یہ معیار تھے جو آپ نے اپنی بات کے، اپنے وعدوں کے، اپنے عہدوں کے قائم کئے۔پھر نو جوانی کے زمانے کی یہ روایت ہے جب حضرت خدیجہ نے اپنا مال تجارت دے کر آپ کو بھیجا اور ایک غلام جو ساتھ بھیجا تھا۔اس نے جب آپ کی امانت و دیانت کی تصویر کھینچی تو حضرت خدیجہ نے اس سے متاثر ہو کر آپ کو رشتے کا پیغام بھیجا۔پھر مکہ والوں میں سے ہی ، ان دنوں میں جب آپ نے نبوت کا دعوی کیا تو ایک شخص نے آپ کے بارے میں گواہی دی۔یہ شخص نضر بن حارث ہیں۔انہوں نے تمام قریش کو مخاطب کر کے یہ اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں ایک چھوٹا لڑکا تھا تم میں پلا بڑھا تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت کا مالک ہے، تم میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، اور تم میں سے سب سے زیادہ امین ہے۔جب تم نے اس کی کنپٹیوں میں بڑھاپے کے آثار دیکھے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لے کر آیا جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے تو تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ساحر ہے۔اللہ کی قسم وہ ہرگز ساحر نہیں ہے۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني الفصل العشرون عدله وامانته تو یه ساری خصوصیات جو آپ کی نوجوانی میں سب کو نظر آئیں اور قوم کے اس وقت جو شرفاء تھے ، انہوں نے اس پر گواہی بھی دی۔تو دوسرے لوگ جو مخالفین تھے ، اعتراض کرنے والے تھے ، ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، ہم نے تو کبھی امین نہیں دیکھا۔