خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد سوم 419 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء آپ کی پاک فطرت میں امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کا اعلیٰ خلق دعوی نبوت سے پہلے بھی تھا۔اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور قرآنی تعلیم نے اس کو مزید اجاگر کیا اور مزید نکھارا۔وہ واقعہ بھی دیکھیں جس سے آپ کے مختلف اخلاق اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔اس میں ایک سبق یہ بھی ہے جو کہ عہد کی پابندی کے بارے میں ہے۔دعویٰ نبوت سے پہلے مکہ کے چند شرفاء نے مل کر لوگوں کے بعض حقوق قائم کرنے کے لئے ، ان کو حقوق دلوانے کے لئے انسانیت کی خدمت کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کا نام حلف الفضول تھا۔اس معاہدے کے تحت جب ایک مظلوم نے اس معاہدے کا حوالہ دے کر آپ سے مدد کی درخواست کی تو آپ فوراً اٹھے اور گو دعوی نبوت کے بعد آپ پر بڑے سخت حالات تھے اور ابو جہل تو مخالفین میں سب سے زیادہ بڑھا ہوا تھا لیکن اس عہد کی وجہ سے جو آپ نے کیا تھا۔بہت پہلے کا کیا ہوا عہد تھا، جس میں سے بہتوں نے تو شاید اس عہد کو تو ڑ بھی دیا ہو یا بھول بھی ہو گئے ہوں لیکن کیونکہ آپ ایک دفعہ عہد کر چکے تھے اس لئے اس کو آپ نے ان حالات میں بھی نبھایا۔آپ فوراً اس شخص کی مدد کے لئے ابو جہل کے پاس گئے اور اس کا حق اس کو دلوایا۔آپ کی امانت و دیانت جوانی میں ہی اس قدر مشہور تھی کہ قریش مکہ آپ کو ہمیشہ جوانی کے دوران بھی امین کے نام سے پکارا کرتے تھے۔اس لئے جب حجر اسود کے رکھنے کے بارے میں ایک فیصلے کے تحت سرداران قریش سب سے پہلے آنے والے کا انتظار کر رہے تھے کہ صبح جو بھی سب سے پہلے آئے گا اس سے فیصلہ کروائیں گے۔تو انہوں نے جب آپ کو آتے دیکھا تو بے اختیار هذا الامین ان کے منہ سے نکلا کہ یہ تو امین ہے۔یقینا یہ بہترین فیصلہ کریں گے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ نے کیا خوبصورت فیصلہ فرمایا۔تمام گروہوں کی تسلی ہو گئی۔نبوت سے پہلے کا یہ ذکر ہے۔ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بعثت سے پہلے ایک سودا کیا۔میرے ذمے کچھ رقم تھی ، ادا کرنی رہ گئی تھی۔تو میں نے کہا آپ اسی جگہ ٹھہریں میں بقیہ رقم لے کر آیا۔گھر آنے پر کہتے ہیں میں