خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد سوم 421 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005 ء بلکہ سب خاموش ہو گئے۔بلکہ آپ کے دعوی نبوت کے بعد بھی جب مخالفت زوروں پر تھی اور سردار آپ کے مخالف تھے مکہ کے رہنے والوں میں سے ہی لوگ تب بھی آپ کے پاس اپنی امانتیں رکھوا دیا کرتے تھے۔کیونکہ پتہ تھا کہ یہی ایک امین شخص ہے جس کے پاس ہماری رکھی ہوئی امانت کبھی ضائع نہیں ہوگی۔اور پھر دیکھیں آپ نے ان کا کیسے حق ادا کیا کہ جب آپ نے مکہ سے ہجرت کرنی تھی تو اس وقت بھی بہتوں کی امانتیں آپ کے پاس تھیں اور آپ نے اس کا انتظام فرمایا۔اس بارے میں بھی دیکھیں کہ کیسی مثال قائم کی۔اس وقت کفار آپ کے خون کے پیاسے تھے جب آپ نے ہجرت کا فیصلہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے حکم سے ، فیصلہ ہوا کہ آپ ہجرت کریں۔اور پروگرام کے مطابق بڑی خاموشی سے ہجرت کی تھی۔اگر آپ پہلے امانتیں لوٹانے کا انتظام فرماتے تو بات نکل جاتی ، خطرہ پیدا ہو جاتا۔لیکن آپ کو اس بات کی بھی فکر تھی کہ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچ جائیں۔کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہو کہ ہماری امانتیں دیئے بغیر چلے گئے۔ہم تو امین سمجھے تھے آج ہم دھو کہ کھا گئے۔یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔تو اس کے لئے آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ حضرت علیؓ کو مقرر کیا اور ان کے سپر دامانتیں کیں کہ جن جن لوگوں کی امانتیں ہیں ان کو لوٹا دینا۔اور فرمایا اس وقت تک تم نے مکہ میں ہی رہنا ہے جب تک ہر ایک کو اس کی امانت نہ پہنچ جائے۔پس اس صادق و امین نے اُس مشکل وقت میں بھی اپنے ایک جاں شار کو پابند فرمایا کہ اس شہر کے لوگوں نے تو مجھے نکالنے یا ختم کرنے کے سامان کئے ہیں۔لیکن میرے امین ہونے کے اعلیٰ معیار کا تقاضا یہ ہے کہ اُن کی امانتوں کو محفوظ طریقہ سے اُن تک واپس پہنچایا جائے۔پھر آپ نے جہاں امانت و دیانت کے یہ اعلیٰ نمونے دکھائے وہاں اُمت کو بھی نصیحت کی کہ اس کی مثالیں قائم کرو۔اور پھر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اس کا خیال رکھو۔مثلاً میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔اس میں بھی آپ نے نصیحت فرمائی کہ یہ تعلقات امانت ہوتے ہیں ان کا خیال رکھو۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہوگی کہ ایک آدمی اپنی