خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 417
خطبات مسرور جلد سوم 417 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء میں ، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔بظاہر جو ایماندار نظر آتے ہیں، عہدوں کے پابند نظر آتے ہیں، جب اپنے مفاد ہوں تو نہ امانت رہتی ہے نہ دیانت رہتی ہے، نہ عہدوں کی پابندی رہتی ہے۔دو معیار اپنائے ہوئے ہیں لیکن ہمارے بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے ، اپنے اسوہ سے، اپنی امت کو ان باتوں کی پابندی کرتے ہوئے عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔اب وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پا سکتا ہے۔اس سے باہر کوئی چیز نہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی اس میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔اس پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے ہمارے آ قا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے تبھی تو حضرت عائشہ نے کہا تھا کہ آپ کے اخلاق کے لئے قرآن کریم کی تعلیم دیکھ لو۔یعنی آپ کا ہر فعل قرآنی تعلیم کے مطابق تھا۔اب دیکھیں آج کل بھی جنگیں ہوتی ہیں۔اپنے آپ کو بڑی پڑھی لکھی اور مہذب کہنے والی قو میں کمزور قوموں کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے حربے استعمال کر رہی ہوتی ہیں کہ انسانیت کو شرم آئے۔جنگوں کی وجہ سے بغض اور کینے کی آگ اس قدر بھڑک رہی ہوتی ہے کہ مقصد صرف اور صرف دوسری قوم کو ذلیل ورسوا کرنا اور تباہ کرنا ہوتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے اسلام پھیلانے کے لئے جنگیں کیں یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے جنگیں کیں۔یہ سب الزام اور بہتان ہیں، اس وقت میں اس موضوع پر تو بات نہیں کر رہا لیکن ایک جنگ کے دوران کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں، جبکہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دشمن کو ایسی حالت میں لایا جائے جس سے وہ مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے، آپ نے امانت و دیانت کے کیا اعلیٰ نمونے دکھائے اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔جب اسلامی فوجوں نے خیبر کوگھیرا تو اس وقت وہاں کے ایک یہودی سردار کا ایک ملازم ، ایک خادم، ایک جانور چرانے والا جانوروں کا نگران جانوروں سمیت اسلامی لشکر