خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 418
خطبات مسرور جلد سوم 418 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء کے علاقے میں آگیا اور مسلمان ہو گیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں تو اب مسلمان ہو گیا ہوں ، واپس جانا نہیں چاہتا، یہ بکریاں میرے پاس ہیں، ان کا اب میں کیا کروں۔ان کا مالک یہودی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بکریوں کا منہ قلعے کی طرف پھیر کر ہانک دو۔وہ خود اس کے مالک کے پاس پہنچ جائیں گی۔چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا اور قلعہ والوں نے وہ بکریاں وصول کر لیں ، قلعے کے اندر لے گئے۔تو دیکھیں یہ ہے وہ امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا۔کیا آج کوئی جنگوں میں اس بات کا خیال رکھتا ہے۔نہیں، بلکہ معمولی رنجشوں میں بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی ، ایک دوسرے کا پیسہ مارنے کی اگر کسی نے کسی سے لیا ہو تو ، کوشش کی جاتی ہے۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی احساس تھا کہ اس حالت میں بھی جبکہ دشمن کے مال پر قبضہ مل رہا تھا ، اس طرح کے قبضے کو نا جائز سمجھا۔اس محاصرے کی وجہ سے، اس گھیرے کی وجہ سے جو قلعے کا تھا، باہر سے تو خوراک اندر جا نہیں سکتی تھی اور یہ بکریاں جو تھیں یہ قلعے والوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے خوراک کا سامان مہیا کر سکتی تھیں۔محاصرہ لمبا بھی ہو سکتا تھا، لڑائی لمبی بھی ہو سکتی تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برداشت نہ کیا کہ ایک شخص جو کسی کے مال کا امین بنایا گیا ہے اور اب مسلمان ہو چکا ہے وہ مسلمان ہو کر کسی خیانت کا مرتکب ہو۔اور اس شخص کو اسلام لاتے ہی پہلا سبق یہ دیا کہ امانت میں کبھی خیانت نہیں کرنی چاہئے۔جیسے بھی حالت ہو تم نے خدا تعالیٰ کے اس حکم کی ہمیشہ تعمیل کرنی ہے کہ اپنی امانتوں کی نگرانی کرو۔ان کو واپس لوٹاؤ۔اس نگرانی سے کبھی بے پرواہ نہ ہو۔پس یہ ہے ایسے حالات میں آپ کا امانت و دیانت کا اعلیٰ معیار۔اس وقت جب جنگ ہو رہی تھی شاید مسلمانوں کو بھی خوراک کی ضرورت ہو اور وہ بکریاں ان کے کام آسکتی تھیں اور بعضوں کے نزدیک شاید یہ جائز بھی ہو کہ یہ مال غنیمت کے زمرہ میں آتا ہے۔لیکن آپ نے فرمایا: نہیں یہ ناجائز ہے، خیانت ہے۔اور نا جائز اور خیانت سے لیا ہوا مال مسلمان پر حرام ہے۔پس یہ سبق ہیں اور یہ اسوہ ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں دیا۔اب اس کی مختلف مواقع کی چند اور مثالیں ہیں وہ میں پیش کرتا ہوں۔