خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد سوم 390 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005 ء کہ اپنے آپ کو ایک حصار میں ، ایک شیل (Shell) میں بند کر کے یا محصور کر کے نہ رکھیں ، جہاں صرف ایسے لوگ آپ کے اردگرد ہوں جو سب ٹھیک ہے“ کی رپورٹ دینے والے ہوں۔بلکہ ہر ایک احمدی کی ہر متعلقہ امیر اور عہدیدار تک پہنچ ہونی چاہئے تا کہ ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں سے آپ کا براہ راست تعلق ہو۔بعض دفعہ بعض نوجوان بھی ایسی معلومات دیتے ہیں اور ایسی عقل کی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑی عمر کے لوگ یا تجربہ کارلوگوں کے ذہن میں نہیں آتی۔اس لئے کبھی بھی ، کسی بھی نو جو ان کی یا کم پڑھے لکھے کی بات کو تخفیف یا کم نظر سے نہ دیکھیں۔وقعت نہ دیتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ہر بات کو توجہ دینی چاہئے۔پھر بعض دفعہ نو جوانوں کے ذہنوں میں بعض سوال اٹھتے ہیں اور اس معاشرے میں اور آج کل کے نواجونوں کے ذہن میں بھی باتیں اٹھتی رہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہے؟۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو بھی ، لجنہ اماءاللہ کو بھی اور جماعتی عہدیداران کو بھی ایسے نوجوانوں کی تسلی کرانی چاہئے ، ان کو تسلی بخش جواب دینے چاہئیں تا کہ کسی فتنہ پرداز کوان کو استعمال کرنے کا موقع نہ ملے۔پھر عہد یداران جو جماعتی نظام میں عہد یداران ہیں وہ صرف عہدے کے لئے عہد یدار نہیں ہیں بلکہ خدمت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔وہ نظام جماعت، جو نظام خلافت کا ایک حصہ ہے، کی ایک کڑی ہیں۔ہر عہدیدار اپنے دائرے میں خلیفہ وقت کی طرف سے ، نظام جماعت کی طرف سے تفویض کئے گئے ، ان کے سپرد کئے گئے اس حصہ فرض کو صحیح طور پر سر انجام دینے کا ذمہ دار ہے۔اس لئے ایک عہدیدار کو بڑی محنت سے، ایمانداری سے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے کام کو سر انجام دینا چاہئے۔اور اُن عہد یداروں میں اپنے آپ کو شمار کرنا چاہئے جن سے لوگ محبت رکھتے ہوں۔جس کا ایک حدیث میں یوں ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔( مسلم - كتاب الامارة باب خيار الائمة وشرارهم) تو اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے تمام عہدیدار اپنے فرائض نبھا ئیں اور جب فیصلے کرنے ہوں