خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد سوم 389 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء تھے۔اللہ کرے یہ محبت اور وفا کے اظہار اور دعوے کسی وقتی جوش کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ رہنے والے اور دائی ہوں اور آپ کی نسلوں میں بھی چلنے والے اور قائم رہنے والے ہوں۔یا درکھیں جہاں محبت کرنے والے دل ہوتے ہیں وہاں فتنہ پیدا کرنے والے شیطان بھی ہوتے ہیں جو اس تعلق کو توڑنے یا اس تعلق میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ایسے لوگوں سے بھی آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے۔اپنے ماحول پر نظر رکھنی ہے۔کہیں سے بھی کوئی ایسی بات سنیں جو جماعتی وقار یا خلافت کے احترام کے خلاف ہو تو فوری طور پر عہد یداران کو بتا ئیں، امیر صاحب کو بتا ئیں، مجھے بتائیں۔کیونکہ بعض دفعہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اندر ہی اندر پکتی رہتی ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔عہد یداران بھی اپنے اندر یہ عادت پیدا کریں کہ جب ایسی باتیں سنیں تو سن کر سرسری طور پر دیکھنے کی بجائے اس کی تحقیق کر لیا کریں، یا کم از کم نظر رکھا کریں۔ایک دفعہ اگر سنی ہے تو ذہن میں رکھیں اور اگر دوبارہ سنیں تو بہر حال اس پر توجہ دینی چاہئے۔امیر صاحب کو بتا ئیں پھر مجھے بھی بتا ئیں اسی واسطے سے، بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ چھوٹی سی بات لگ رہی ہوتی ہے اس لئے کہ ہر ایک کو اس کے پس منظر کا ، بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں ہوتا۔اس کی جڑیں کسی اور جگہ ہوتی ہیں۔اس لئے کسی فتے کو کبھی چھوٹا نہ سمجھیں، اگر کوئی ایسی بات ہے جو وقتی ہے، آپ کے نزدیک سطحی سی بات ہے، اور غصے میں کسی نے کہہ دی ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔اور ان وقتی شکایتوں اور شکووں کو دُور کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔اور عہدیداروں کی طرف سے بھی کی جانی چاہئے۔عہدیداروں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور ایسی باتیں سنی چاہئیں تا کہ توجہ نہ دینا فرد جماعت اور عہدیداروں میں دوری پیدا کرنے کا باعث نہ بن جائے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا جب بھی کسی بات کا مجلسوں میں ذکر ہورہا ہے اور پھر شرارت پھیلانے کی غرض سے ذکر ہورہا ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔بہر حال ہر صورت میں جب بھی آپ کوئی ایسی بات سنیں جس میں ذراسی بھی نظام کے خلاف کسی بھی قسم کی بو آتی ہو تو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اس لئے یہاں سمیت تمام دنیا کے عہدیداران بھی اور امراء بھی جہاں جہاں بھی ہیں، ان سے میں کہوں گا