خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 391
خطبات مسرور جلد سوم 391 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء تو خالی الذہن ہو کر کیا کریں، کسی طرف جھکاؤ کے بغیر کیا کریں۔جیسا کہ پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تقویٰ یہی ہے کہ اگر اپنے خلاف یا اپنے عزیز کے خلاف بھی گواہی دینی ہو تو دے دیں۔لیکن انصاف کے تقاضے پورے کریں تو پھر ایسے عہدیدار اللہ کے محبوب بن رہے ہوں گے جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور ان سے زیادہ قریب انصاف پسند حا کم ہوگا اور سخت نا پسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہوگا۔(ترمذى - ابواب الاحكام باب ماجاء في الامام العادل) - یہاں حاکم تو نہیں ہیں لیکن عہدے بہر حال آپ کے سپرد کئے گئے ہیں ، ایک ذمہ واری پ کے سپرد کئی گئی ہے۔ایک دائرے میں آپ نگران بنائے گئے ہیں۔پس یہ جو خدمت کے مواقع دیئے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دیئے گئے بلکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں۔خلیفہ وقت کے فرائض کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے که فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ ﴾ ( ص : 27) یعنی پس تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کر اور اپنی خواہش کی پیروی مت کر۔وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔پس جب عہدیداران پر خلیفہ وقت نے اعتماد کیا ہے اور اُن سے انصاف کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے۔کیونکہ ہر جگہ تو خلیفہ وقت کا ہر فیصلہ کے لئے پہنچنا مشکل ہے، ممکن ہی نہیں ہے۔تو اگر عہدیداران، جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں، دوسرے عہد یداران بھی ہیں اپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔میرے نزدیک وہ دوہرے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔دوہرے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ایک اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہ دے کر، دوسرے خلیفہ وقت کے اعتما دکو