خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 374
خطبات مسرور جلد سوم 374 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء آسانی دنیا داری یا سستی کی وجہ سے نہ ہو۔یہ جومیں نے کہا تھا کہ نمازوں میں ” کمزور لوگ۔سے مراد وہ لوگ ہیں جو بے وقت اور جمع کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو پوری پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔انہیں بھی ان دنوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جبکہ دعاؤں کا ماحول ہے، اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتے ہوئے یا تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے ، اپنی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ہر قدم پر یہاں شیطان کھڑا ہے جو اللہ تعالیٰ سے بندے کو دور لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے خلاف جہاد کریں۔اللہ کی پناہ میں آنے کی کوشش کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کا اوڑھنا بچھونا عبادت تھی آپ بھی اللہ تعالی کی پناہ میں آنے کے لئے دعا کیا کرتے تھے اور کس طرح دعا کیا کرتے تھے۔اس کا ایک روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری عزت کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرتا ہوں۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ ذات ہے جو مرنے والی نہیں جبکہ جن وانس مر جائیں گے۔(مسلم كتاب الذكر والدعاء ـ باب في الادعية) پس ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے اس کی عبادت کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے ، اس کی پناہ میں آنے کے لئے ، شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے اور ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنے کے لئے کہ وہ قائم رہنے والی ، قائم رکھنے والی ذات ہے، باقی سب کچھ فنا ہونے والی چیزیں ہیں استغفار کرتے ہوئے اس کی پناہ میں آئیں۔اس کا عبادت گزار بندہ بننے کے لئے اس کا فضل مانگتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم پر فضل فرمائے اور ہمیں اپنا عبادت گزار بندہ بنائے۔جب عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم ہو جائیں گے یا یہ معیار حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ