خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد سوم 373 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء گر نہ جائیں۔دعا کے لئے لکھتے ہیں، کہتے بھی ہیں اور خود کوشش بھی کرتے ہوں گے، دعا بھی کرتے ہوں گے۔اگر اپنے بچوں کو ان گندگیوں اور غلاظتوں میں گرنے سے بچانا ہے تو سب سے بڑی کوشش یہی ہے کہ نمازوں میں با قاعدہ کریں۔کیونکہ اب ان غلاظتوں اور اس گند سے بچانے کی ضمانت ان بچوں کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دے رہی ہیں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرَ (العنكبوت: 46)۔یعنی يقيناً نماز بدیوں اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔گویا ان نمازوں کی حفاظت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان نمازوں کے ذریعہ سے ضمانت دے دی ہے کہ خالص ہو کر میرے حضور آنے والے اب میری ذمہ داری بن گئے ہیں کہ میں بھی اس دنیا کی گندگیوں اور غلاظتوں سے ان کی حفاظت کروں اور ان کو نیکیوں پر قائم رکھوں، تقویٰ پر قائم رکھوں۔ایسے لوگوں میں شامل کروں جو تقویٰ پر قائم ہوں ، جو میرے پاکباز لوگ ہیں۔ایسے لوگوں میں شامل کروں جو میرا انعام پانے والے لوگ ہیں۔پس یہ سب سے بنیادی چیز ہے جس کی ٹریننگ اور جس کے کرنے کا عزم آپ نے ان جلسے کے دنوں میں کرنا ہے۔جو نمازوں میں کمزور ہیں انہوں نے ان دنوں میں اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس میں با قاعدگی اور پابندی اختیار کرنے کی کوشش کرنی ہے۔لیکن یہ بات واضح ہو کہ ان دنوں میں جلسے کی وجہ سے یا میرے دورہ کی وجہ سے، دوسری مصروفیات کی وجہ سے چند دنوں کے لئے نمازیں جمع کر کے پڑھائی جاتی ہیں۔تو بچوں کے ذہنوں میں یا نوجوانوں کے ذہنوں میں یا بعض سست لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات نہ رہ جائے کہ یہ نمازیں جمع کر کے پڑھنا ہی ہماری زندگی کا مستقل حصہ ہے بلکہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نمازیں وقت مقررہ پر ادا کرو تو اس کے مطابق ادا ہونی چاہئیں۔سوائے اس کے کہ مسافر ہوں یا دوسری جائز ضرورت ہو، جس طرح مثلاً آج کل یہاں بعض شہروں میں سورج سوا نو بجے یا ساڑھے نو بجے یا بعض جگہ پونے دس بجے غروب ہوتا ہے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھالی جاتی ہیں۔لیکن جب وقت بدل جائیں گے تو پھر وقت پر ادا ہونی چاہئیں۔تو بہر حال دین میں آسانی ہے اس لئے سہولت میسر ہے لیکن فکر کے ساتھ نمازیں ادا کرنا بہر حال ضروری ہے۔اور یہ ہمیشہ ذہن میں ہونا چاہئے کہ یہ