خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 375

خطبات مسرور جلد سوم 375 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء کے حضور جھکتے ہوئے کوشش شروع ہو جائے گی تو باقی نیکیاں بھی جو انسان کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی طرف بھی توجہ پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور وہ ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا ہو، نمازوں کی ادائیگی کرنے والا ہو اور پھر یہ بھی ہو ساتھ کہ بندوں کے حقوق مارنے والا بھی ہو۔یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے اس دعویٰ کے خلاف ہے۔اگر بظاہر بعض نمازی ایسے نظر آتے ہیں جو نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق بھی غصب کرنے والے ہوتے ہیں، حقوق مارنے والے ہوتے ہیں تو وہ ان نمازیوں میں شامل نہیں ہیں جو خالص ہو کر اللہ کو پکارتے ہیں۔بلکہ وہ تو اس زمرے میں شامل ہو جائیں گے جن کے بارے میں فرمایا کہ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ﴾ ( الماعون: 5) ہلاکت ہے ایسے نمازیوں کے لئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو نمازیوں کو جو نماز کا حق ادا کرنے والے ہیں، نیکیوں پر چلاتا ہوں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اس فکر کے ساتھ اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور ہمیشہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دیتے رہنا چاہئے۔اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ آپس میں محبت اور اخوت کی فضا پیدا ہو، بھائی چارے کی فضا پیدا ہو۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں ایک دوسرے کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔تو تقویٰ کا اعلیٰ معیار بھی قائم ہو سکتا ہے جب پیار، محبت اور عاجزی اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہو۔کیونکہ جس میں اپنے بھائی کے لئے محبت نہیں اس میں تقویٰ بھی نہیں۔جس میں انکسار نہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہے۔جس دل میں اپنے بیوی بچوں کے لئے نرمی نہیں وہ بھی تقوی سے عاری ہے۔جو بیوی یا خاوند ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔جو عہد یدار اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ بھی تقوی سے خالی ہیں۔غرض کہ جو دل بھی اپنی انا اور تکبر یا کسی بھی قسم کی بڑائی دل میں لئے ہوئے ہے وہ تقویٰ سے عاری ہے۔جو بھی اپنے علم کے زعم میں دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے وہ تقویٰ سے خالی ہے۔لیکن جو لوگ اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری