خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 366
خطبات مسرور جلد سوم 366 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء وہ تو انشاء اللہ پوری ہوگی۔بشرطیکہ ہم ایک توجہ کے ساتھ ، ایک لگن کے ساتھ کوشش کریں۔لیکن بنیادی بات یاد رکھیں جس پر ساری بنیاد ہے کہ تقویٰ کو قائم کریں اور تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے تمام عملوں کو ڈھالیں۔اللہ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہئے۔اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برانمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے۔اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔برے نمونے سے اوروں کو نفرت ہوتی ہے۔اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں اگر چہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔ان اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُون (النحل : 129) ( یعنی یا درکھ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ کا طریق اختیار کیا ہوا ہو اور جو نیکوکار ہوں۔) فرمایا کہ خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے اور اس میں غور کرنا چاہئے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا۔بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔ایک جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے، سمندر میں طوفان آ گیا قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔اس کی دعا سے بچالیا گیا۔اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا۔مگر یہ باتیں نر از بانی جمع خرچ کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں۔دیکھو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ دیا ہے۔اِنِّی أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ مگر دیکھو ان میں غافل