خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 367

خطبات مسرور جلد سوم 367 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء عورتیں بھی ہیں، مختلف طبائع اور حالات کے انسان ہیں۔خدانخواستہ اگر ان میں سے کوئی طاعون سے مرجاوے یا جیسا کہ بعض آدمی ہماری جماعت میں طاعون سے فوت ہو گئے ہیں تو ان دشمنوں کو ایک اعتراض کا موقع ہاتھ آ گیا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوْا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْم (الانعام: 183) ( یعنی جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا، ظلم سے ملا نہیں دیا۔ایمان لانے کے بعد پھر تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔فرمایا ” بہر حال جماعت کے افراد کی کمزوری یا برے نمونے کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو۔جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔﴿ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ﴾ (التحريم : 7) “ یعنی جو کچھ کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔ایسے بنا پڑے گا۔تو فنافی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا۔چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں، خویش و اقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَّ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ (فاطر: 33) کہ بعض تو ایسے ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ہیں وہ جو درمیانی چال چلنے والے ہیں اور بعض نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والے ہیں۔فرمایا کہ " پہلی دونوں صفات ادنی ہیں۔سابق بالخیرات بننا چاہئے۔ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھہرا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بدبو دار اور بدمزہ ہوجاتا ہے۔چلتا پانی ہمیشہ عمدہ،۔ستھرا اور مزیدار ہوتا ہے اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو۔مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہئے۔یہ حالت خطر ناک ہے۔ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہئے۔نیکی میں ترقی کرنی چاہئے ورنہ خدا تعالیٰ انسان کی مدد نہیں کرتا۔اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے۔جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے“۔( بعض جو مرتد ہوتے ہیں دیکھ لیں