خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 365
خطبات مسرور جلد سوم 365 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء تعالیٰ پہلے سے بہت بڑھ کر آپ پر انشاء اللہ فضل فرمائے گا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا ، بہت سے ایسے ہیں جو اس اظہار کے ساتھ قربانیاں پیش کرتے ہیں۔جو نہیں کرتے ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ یہ نسخہ آزمائیں۔تقویٰ پر قدم ماریں عبادتوں کے حق ادا کریں۔اللہ تعالیٰ کا شکر اپنے پر اس کے فضلوں کے حساب سے کریں۔پھر اس کے فضلوں کو مزید اپنے پر برستا دیکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے شکر اور تقویٰ کے معیار کو بڑھاتا چلا جائے۔یہ مسجد جو آپ بنارہے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ اگر جماعت کو بڑھانا ہے تو جس جگہ بڑھانا چاہتے ہو اس شہر یا قصبہ میں مسجد بنا دو۔تو یہ مسجد تو انشاء اللہ لوگوں کی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنے گی لیکن یہ دلچسپی ، لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ، احمدیت کی طرف اور اسلام کی طرف تبھی ہوگی جب آپ اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کریں گے، آپ کے قول وفعل ایک دوسرے سے ٹکراتے نہ ہوں گے۔جیسا کہ میں بڑی تفصیل سے پہلے کہہ آیا ہوں کہ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں۔حقوق العباد کے معیار بلند کریں۔یہ چیزیں جہاں آپ پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ڈال رہی ہوں گی وہاں اس علاقے میں احمدیت کا پیغام بھی پہنچانے کا باعث بن رہی ہوں گی۔پس اس نیت سے بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔جو مالی قربانی میں زیادہ بڑھ نہیں سکتے وہ اپنے نفس کی اصلاح میں تو بڑھ سکتے ہیں۔وہ اپنی عبادتوں کے معیار میں تو بڑھ سکتے ہیں۔وہ علاقے میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کی کوشش میں تو بڑھ سکتے ہیں۔شہر میں اگر کوئی زیادہ مذہب کی طرف توجہ نہیں دیتا تو ارد گرد کے علاقوں میں نکل جائیں۔علاقے کے لوگ بڑے دوست دار ہیں ، ملنے جلنے والے ہیں۔ہر طبقے کے احمدی بوڑھا ، بچہ ، جوان عورتیں اگر سنجیدگی سے اس طرف توجہ کریں تو جماعت کا کافی تعارف ہو سکتا ہے۔اور یہ تعارف ہی بعض نیک روحوں کو جماعت کی طرف لے آنے کا باعث بنے گا۔اور انشاء اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں یہاں بھی اور وینکوور میں بھی اور جگہ بھی جہاں مساجد بن رہی ہیں علاقے میں آپ کے تعارف ،احمدیت اور اسلام کے نفوذ کا باعث بنیں گے۔خدا کے نبی کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہے کہ مسجدیں بناؤ اور جماعتیں بڑھاؤ۔تو