خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 327

خطبات مسرور جلد سوم 327 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء رضا حاصل کرنے والے بنیں۔اِن لوگوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر مالی قربانی کرنے والے ہیں ، چندے دینے والے ہیں۔ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو بڑی مالی قربانیاں پیش کرنے والے ہیں۔اپنے با قاعدہ چندوں کے علاوہ بھی کروڑوں روپے کی قربانی کر دیتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہ لگے۔پس یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اپنے رب سے ان قربانیوں کا اجر پانے والے لوگ ہیں۔ان کو ان قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی اپنی رحمت اور فضل کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے۔ان کے غموں کو خوشیوں میں بدل دیتا ہے۔ان کے خوفوں کو اپنے فضل سے دور فرما دیتا ہے۔ان کی اولا دوں کو ان کی آنکھ کی ٹھنڈک بنا دیتا ہے اور آئندہ زندگی میں خدا تعالیٰ نے ان کو جن نعمتوں سے نوازنا ہے اس کا تو حساب ہی کوئی نہیں ہے۔تو یہ اللہ والے یہ قربانیاں اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے۔یہ قربانیاں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا ادراک ہے کہ اپنے پیسوں کی تفصیلی کا منہ بند کر کے نہ رکھو ورنہ خدا تعالیٰ بھی رزق بند کر دے گا۔اللہ کی راہ میں گن گن کر دو گے تو خدا تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو اس بات کا یقین ہے اور خدائی وعدہ پر مکمل ایمان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَانْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُوْنَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ - وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴾ (البقرة : 273) یعنی جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو تو وہ تمہارے اپنے ہی فائدے میں ہے۔جبکہ تم اللہ کی رضا جوئی کے سوا ( کبھی ) خرچ نہیں کرتے اور جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو وہ تمہیں بھر پور واپس کر دیا جائے گا اور ہر گز تم سے کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔تو جب اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کر رہا ہے کہ کوئی خوف نہ کرو بلکہ جو بھی تم خرچ کرو گے وہ تمہیں لوٹا دیا جائے گا۔اور کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔بلکہ زیادتی کا یا لوٹائے جانے کا کیا سوال ہے؟ اللہ تعالیٰ تو ایسا دیا لو ہے ، اس قدر بڑھا کر لوٹاتا ہے کہ اس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔اس کے خزانے لامحدود ہیں۔اور جس کے خزانے لامحدود ہوں وہ انسانی ذہن میں کسی معیار کا تصور پیدا کرنے کے لئے پیمانے کا اظہار تو کر دیتا ہے لیکن وہ معیار یا پیمانے آخری