خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد سوم 326 خطبہ جمعہ 3 / جون 2005ء اُس کا اِس قدر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے جیسے کہ قربانی کے کوئی اعلیٰ معیار قائم کر لئے ہوں۔مثلاً آج کل ہمارے ملک پاکستان میں یا ہندوستان میں گرمیوں کے دن ہیں اس موسم میں بازاروں میں ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے اور پھر بڑا فخر ہوتا ہے کہ ہم نے یہ انتظام کیا ہوا ہے۔یا مسجدوں کی تعمیر میں معمولی سی رقم پانچ دس روپے دے دیتے ہیں تو باقاعدہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر یہ اعلان ہوتا ہے کہ فلاں صاحب نے اتنی قربانی دی اور خاص طور پر پاکستان میں چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بہت رواج ہے۔تو عموماً کچھ نہ کچھ دینے والے مسلمانوں کا یہ حال ہے۔اور اکثریت تو ایسی ہے کہ خدا کی راہ میں دینے کا تصور ہی نہیں ہے اور ایسے لوگوں میں سے چندا میر لوگ جن کو کچھ احساس ہے کہ دین کی خاطر خرچ کریں تو ایسے مدرسوں یا اداروں کی سر پرستی کی جاتی ہے جہاں انسانیت کے خلاف نفرتوں کے بیج بوئے جاتے ہیں۔اور پھر اگر اپنے مطلب کے مطابق خرچ نہ ہو یا کوئی اختلاف ہو جائے تو پھر وہ ساری امداد میں بھی بند ہو جاتی ہیں۔تو یہ خرچ جو وہ کر رہے ہوتے ہیں اصل میں خدا کی خاطر نہیں ہو رہے ہوتے بلکہ اپنے مقاصد کے لئے یا اپنی نیکی کے اظہار کے لئے یہ خرچ ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم نے اتنا خرچ کیا ہے۔اور جب نیتیں نیک نہ ہوں تو پھر ظاہر ہے نتائج بھی بُڑے ہی نکلتے ہیں۔یہ لوگ نیکیاں پھیلانے کی بجائے اپنے مطلب حاصل کرنے کی وجہ سے لوگوں کی تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔اور خاص طور پر احمدیوں کے لئے تو اس بات کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے کہ خدا کے نام پر ان کو تکلیفیں دی جائیں۔لیکن تصویر کا ایک دوسرا اور صحیح رخ بھی ہے جو احمدیوں کی مالی قربانیوں کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کی مالی قربانیوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر چلتے ہوئے جب قربانی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھ کر ہی قربانی کر رہے ہوتے ہیں۔وہ نہ تو کسی فرد پر یا جماعت پر احسان کا رنگ رکھتے ہوئے قربانی کرتے ہیں، نہ ہی کسی کو تکلیف پہنچانے کی نیت سے یہ قربانی کرتے ہیں۔نیت ہوتی ہے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا میں پہنچانے کے لئے ہم بھی حصہ لیں۔دُکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہم بھی کچھ پیش کریں اور خدا تعالیٰ کی